اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 127
ازواج النبی 127 حضرت ام سلمہ ย اس غیر متوقع صور تحال اور صدمہ سے مسلمان نڈھال تھے۔غم سے ان کے سینے چھلنی تھے۔اپنی قربانیاں میدانِ حدیبیہ میں ذبح کرنے کے حکم پر وہ مجسمہ حیرت بنے کھڑے تھے ، ان کے ہوش و حواس انکا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔حضرت ام سلمہ بھی اس سفر میں شریک تھیں۔حضور علی می کنیم ان کے خیمہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ام سلمہ تمہاری قوم کو کیا ہوا ہے۔وہ میرے حکم پر قربانیاں ذبح کرنے کی بجائے خاموش ہیں، حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یارسول اللہ علیم ! آپ باہر تشریف لے جا کر سب سے پہلے اپنی قربانی ذبح کر دیں اور بال مونڈنے والے کو بلائیں وہ آپ کے بال کاٹ دے۔پھر دیکھیں صحابہ کیسے آپ کی پیروی کرتے ہیں۔حضرت ام سلمہ کی کمال فراست نے بھانپ لیا کہ اس وقت صحابہ کو ایک صدمہ اور غم پہنچا ہے اور کمزوری کی اس حالت میں وہ ایک عملی نمونے کے محتاج ہیں۔آنحضرت علی مریم نے اس بر وقت اور خوبصورت مشورے پر عمل کرتے ہوئے باہر جا کر اپنی قربانی کو ذبح کیا اور بال منڈوانے لگے۔پھر کیا تھا صحابہ ایک عجب جوش و ولولہ کے ساتھ اپنی قربانیوں کی طرف آگے بڑھے اور انہیں ذبح کرنے لگے کہ میدانِ ہ مٹی کی قربان گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔اس واقعہ کے عینی شاہد صحابہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم لرزتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ قربانیاں ذبح کرنے کے بعد اپنے سر مونڈ رہے تھے اور خطرہ تھا کہ کانپتے ہاتھوں سے کسی کی گردن ہی نہ کاٹ ڈالیں۔مسلمانوں کے اس نازک وقت اور ابتلاء میں حضرت ام سلمہ کے اس حديده 33 بابرکت مشورہ سے غیر معمولی برکت عطا ہوئی۔جس نے ہمیشہ کے لئے خواتین کے سر بلند کر دیئے۔اس واقعہ کی ثقاہت و عظمت ایسی ہے کہ مار گولیتھ جیسا مستشرق بھی حضرت ام سلمہ کے مشورہ اور اس سے پیدا ہونے والے تاریخی نتیجہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکا جو مردوں کے اس غالب معاشرہ میں ایک غیر معمولی بات تھی۔وہ لکھتا ہے :۔"At last (by the advice of his wife Umm Salamah) he performed the operations himself, and his followers did the same۔" یعنی آخر کار (آپ کی زوجہ ام سلمہ کے مشورہ پر) آپ نے خود اپنی قربانی سر انجام دی اور پھر آپ کے صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔