اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 110
ازواج النبی ازواج کی تربیت 110 حضرت حفصہ جہاں تک اس واقعہ پر مسٹر کینن کے ازواج کے باہمی رقابت کے اعتراض کا تعلق ہے تو جہاں ایک سے زائد ازواج ہوں وہاں رقابت کی کیفیت ایک طبعی اور قدرتی بات ہے بلکہ اس نسوانی فطرتی جذبہ کا فقدان باعث تعجب ہوتا۔مسٹر کین اگر تعصب کے بغیر غور کرتے تو ازواج مطہرات میں باہم حسن سلوک اور اس رقابت کا ایک دائرہ اخلاق کے اندر رہنا قابل تحسین فعل بھی ہے۔اور اس سے آنحضرت علی ایم کے اخلاق فاضلہ ، وسعت حوصلہ اور ازواج کے انداز تربیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ ہر جائز اور ممکنہ حد تک اپنی بیویوں کے جذبات کا خیال رکھ کر ان کو خوش رکھنا چاہتے تھے۔لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ ازواج کی ناجائز بات بھی مان لیا کرتے تھے۔بلکہ روایات سے پتا چلتا ہے کہ دینی مصالح کے خلاف کسی کا کوئی بھی مشورہ ہوتا تو آنحضرت طی یہ کہ تم اسے ہر گز قبول نہ فرماتے۔بلکہ سختی سے اس سے منع فرما دیتے۔ترک شہد کا معاملہ چونکہ آنحضور کی ذاتی قربانی اور ایثار سے تعلق رکھتا تھا اس لئے آپ ازواج کی خوشی کی خاطر اپنی ذات کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گئے۔تب اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی غیرت آئی اور ارشاد ہوا کہ آپ کیوں بیویوں کی رضا کی خاطر اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ پر حلال کی ہے آپ بیویوں کی باتیں جس حد تک سنتے اور برداشت فرماتے تھے۔اس پر ازواج مطہرات کے عزیز و اقارب کو بھی تعجب ہوتا تھا جیسا کہ عمر کو ہوا۔مگر آنحضرت ہم نے کبھی اس کا بڑا نہیں منایا اور اپنے اخلاق فاضلہ اور نرم خوئی میں کبھی کوئی کمی یادرشتی نہیں آنے دی۔حضرت ابو بکر کی امامت نماز کا واقعہ ازواج کی تربیت کی لطیف مثال ہے جو حضور کی آخری بیماری میں پیش آیا۔جب رسول اللہ نے فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ وہ نماز کی امامت کروائیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات آئی کہ آنحضرت کی یہ بیماری اگر آخری ثابت ہوئی اور حضرت ابو بکر نے حضور کی قائمقامی اور نیابت میں امامت کروائی تو لوگ باتیں کریں گے کہ ابو بکر مصلے پر کیا آئے کہ اس کے بعد پھر رسول الله علم دوبارہ نماز ہی نہ پڑھا سکے اور آپ کی وفات ہی ہو گئی۔اس لئے حضرت عائشہ کو اپنے ذوق کی حد تک رسول الله علیم کی آخری بیماری میں اپنے والد کی امامت ناگوار تھی۔اس بارہ میں انہوں نے پہلے حضرت حفصہ سے مشورہ کیا پھر دونوں ازواج نے حضور کی خدمت میں عرض کیا یار سول اللہ ! ابو بکر کی آواز