اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 101
ازواج النبی 101 حضرت حفصہ رسول الله على ام بعض دفعہ سارا سارا دن تم سے ناراض رہتے ہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ ہاں بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا " یاد رکھو عائشہ کی ریس کرتے ہوئے تم کسی دن اپنا نقصان نہ کر لینا" پھر حضرت عمرؓ اپنی رشتہ دار اور حضور کی دوسری زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ کو بھی یہی نصیحت کرنے چلے گئے۔انہوں نے بھی کیا خوب جواب دیا کہ اے عمر ! اب رسول اللہ علی قلم کے گھریلو معاملات میں بھی آپ مداخلت کرنے لگے ہو۔کیا اس کے لئے خود رسول اللہ مال لیلی کیم کافی نہیں ہیں۔حضرت عمرؓ بیان فرماتے تھے" میں خاموشی سے واپس چلا آیا اور اسی وقت یہ واقعہ آنحضرت لیلی کیم کو جاسنا یا جس پر آپ پریشانی کے اس عالم میں بھی خوب محظوظ ہو کر مسکراتے رہے۔واقعہ طلاق 9 حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ملی تم نے حضرت حفصہ کو طلاق دی اور پھر رجوع فرمالیا۔حضرت انس بن مالک سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ملی ہم نے جب حضرت حفصہ کو طلاق دی تو آپ کو رجوع کا حکم ہوا اور آپ نے رجوع فرمالیا۔قیس بن زید سے روایت ہے کہ حضور علی یم نے ایک دفعہ حضرت حفصہ کی طلاق کا ارادہ کیا۔اتفاق سے اس موقع پر حضرت حفصہ کے ماموں کا ان کے گھر آنا ہوا تو وہ بے اختیار رو پڑیں اور کہنے لگیں" خدا کی قسم ! یہ مت سمجھنا کہ کسی اکتاہٹ یا بیزاری کی وجہ سے آنحضرت ملی تم نے مجھے طلاق دی ہے " اور جیسا 12, کہ ارشادِ ربانی ہے يأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (الطلاق: 2) یعنی اے نبی۔جب تم طلاق دو عورتوں کو تو ان کو طلاق دو انکی عدت پر اور گنتے رہو۔اس وقت تک حضور نے صرف پہلی طلاق کا ہی ذکر فرمایا تھا جس کے بعد رجوع کا امکان تو باقی تھا۔مگر رنجیدہ خاطر ہونے کے باوجو در سول اللہ صلی علیا کی تم سے کسی شکوہ کی بجائے وہ آنحضور علی سلیم کا دفاع کرتے ہوئے ساری ذمہ داری اپنے سر لے رہیں تھیں۔جس سے ان کا جذ بہ فدائیت ظاہر وباہر ہے۔دریں اثناء حضور گھر تشریف لائے تو حضرت حفصہ اپنی چادر سنبھالنے لگیں۔رسول اللہ لی ہم نے طلاق کا فیصلہ واپس لینے کی خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا " جبرائیل "میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ حفصہ سے رجوع کرلیں۔وہ روزے رکھنے والی اور بہت عبادت گزار ہیں اور یہ جنت میں بھی آپ کے ساتھ ہو نگی "