اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 81
ازواج النبی 81 حضرت عائشہ سے اللہ تعالی کا بھی ان کے ساتھ ایک نرالا سلوک ہے اور اگر ان کی خدمتوں کی وجہ سے میری دلی کیفیت کا میلان اس طرف ہے تو اس پر میرا اختیار نہیں۔اس زمانہ میں یہود مدینہ کے دستور کے برخلاف رسول کریم علی کی بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ خیال فرماتے تھے۔ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایام مخصوصہ میں بھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ میرے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے حضور ملی نیم گوشت کی بڑی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔میں کئی دفعہ پانی پی کر بر تن حضور ای نم کو پکڑا دیتی تھی۔حضور علی اہم وہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔46 بیویوں میں عدل حضور علی لام حضرت عائشہ کی نیکی و تقوی، ذہانت و فطانت اور خدمات کی وجہ سے ان سے خاص التفات رکھتے تھے۔مگر اس کے باوجود آپ کا کمال عدل تھا جو آپ تمام ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں رکھنے کی سعی فرماتے تھے۔رسول کریم ملی تم کوشش فرماتے کہ تمام بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں سرمو فرق نہ آئے۔جنگوں میں جاتے ہوئے بیویوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لئے قرعہ اندازی فرماتے تھے اور جس کے نام کا قرعہ نکلتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے۔آیت تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ (الاحزاب:52) میں اجازت تھی کہ تُو اُن میں سے جنہیں چاہے چھوڑ دے اور جنہیں چاہے اپنے پاس رکھ۔اس کے مطابق آپ کو ازواج کے بارہ میں مکمل اختیار دیا گیا تھا۔اس کے باوجود آپ نے یہ اختیار اس حد تک بھی استعمال نہیں فرمایا کہ بلاوجہ معمول کی باریوں میں بھی کوئی تفریق کی ہو۔حضرت عائشہ اپنے خاص انداز محبت میں عرض کیا کرتی تھیں کہ "اگر یہ اختیار مجھے ہوتا تو میں تو صرف آپ کے حق میں ہی استعمال کرتی " اور پھر واقعی حضرت عائشہ نے اس وقت اپنی وفا کا نمونہ دکھا یا جب ان کے لئے آنحضرت علی کنم یاد نیاوی مال و دولت میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع آیا تو آ نحضر عملی یا تم نے سورہ احزاب کی آیت تغییر ( یعنی سورۃ الاحزاب : 29) کی روشنی میں