اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page vii
اہل بیت رسول پیش لفظ قریش سے تھیں۔ان میں حضرت خدیجہ، حضرت سودہ ، حضرت عائشہ ، حضرت حفصہ، حضرت زینب بنت اور زینب ، ام ، جحش اور حضرت ام حبیبہ شامل ہیں۔باقی چار ازواج حضرت زینب بنت خزیمہ ، حضرت ام سلمہ ، حضرت جویریہ اور حضرت میمونہ دیگر قبائل عرب سے تھیں۔حضرت خدیجہ متکمی دور میں اور حضرت زینب بنت خزیمہ اور حضرت ریحانہ مدنی دور میں رسول اللہ علیم کی زندگی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔رض آنحضور علی کم کی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت ماریہ قبطیہ کی وفات ہوئی۔اس کے بعد حضرت زینب بنت جحش رسول الله علیم سے جاملیں اور رسول اللہ لی ایم کی وہ پیشگوئی پوری کرنے والی بنیں جس میں آپ نے ایک موقع پر گھر میں موجود بعض ازواج کو (جن میں حضرت زینب بنت جحش بھی تھیں) مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ تم میں سے سب سے جلد لمبے ہاتھوں والی بیوی مجھے آملے گی اور ان کے لمبے ہاتھوں سے مراد صدقہ دینا تھا۔اس کی مزید تفصیل ام المومنین حضرت ماریہ کے مضمون میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ان کے بعد بالترتیب حضرت سودہ ، حضرت ام حبیبہ، حضرت حفصہ، حضرت صفیہ، حضرت جویریہ، حضرت عائشہ، حضرت میمونہ اور سب سے آخر میں حضرت ام سلمہ نے وفات پائی۔آنحضور منیم نے مکہ میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ سے عقد فرمایا۔ان کی وفات کے بعد مکی دور میں ہی حضرت سودہ سے شادی ہوئی۔جبکہ مدنی دور میں غزوہ بدر سے پہلے 2ھ میں آپ نے حضرت عائشہ سے شادی کی، غزوہ بدر کے بعد 3ھ میں حضرت حفصہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ سے ،4ھ میں حضرت ام سلمہ سے، 5 ہجری میں حضرت زینب بنت جحش اور حضرت جویریہ سے، 6ھ میں حضرت ریحانہ سے، 7ھ میں حضرت ام حبیبہ ، حضرت صفیہ، حضرت ماریہ اور حضرت میمونہ سے شادی ہوئی۔ان کے علاوہ بعض اور قبائل کی جن خواتین سے عقد ہوایا تو ان کی رخصتی ہی نہیں ہوئی یا رخصتی کے بعد طلاق ہو گئی۔آنحضور می یام کی تمام ازواج میں صرف دو بیویاں حضرت عائشہ ، اور حضرت ماریہ ہی کنواری تھیں۔باقی تمام ازواج میں سے نو بیوہ اور دو مطلقہ تھیں۔حضرت خدیجہ اور حضرت سودہ رسول اللہ علیم سے عمر میں بڑی تھیں جبکہ چار ازواج کی پہلے خاوند سے اولاد بھی تھی۔حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہند ، دوسرے خاوند سے ایک بیٹاہند اور ایک بیٹی ہالہ تھی۔حضرت سودہ کا اپنے پہلے خاوند سے ایک بیٹا عبدالرحمان نامی تھا۔حضرت ام سلمہ کے اپنے پہلے شوہر ย