اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 50
ازواج النبی 50 حضرت سوده رض میں مانع نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کوئی اور بات ہر گز نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی یا تم نے فرمایا کہ ” اللہ تم پر رحم فرمائے ، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی پشت پر سوار ہوتی ہیں قریش کی نیک عور تیں ہیں جو بچوں کی کم سنی 66 میں نہایت شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و متاع کا خیال رکھنے والی ہوتی ہیں ، حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد تین سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ تک حضرت سودہ تنہا رسول اللہ صلی عید الاسلام کے عقد میں رہیں یہاں تک کہ مدینہ میں حضرت عائشہ رخصت ہو کر حضور صلی علی الیتیم کے گھر آئیں۔جن کا نکاح حضرت سودہ سے پہلے حضور میں قیام کے ساتھ ہو چکا تھا۔بہر حال حضرت سودہ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ حضرت خدیجہ کے بعد رسول اللہ صلی کم کی پہلی بیوی ہونے کا اعزاز پایا۔حضرت خدیجہ سے رسول اللہ میم کی اولاد کو سنبھالا اور حضور ملی ایم کے گھر کو چلانے کی اہم ذمہ داری اور خدمت ادا کرنے کی توفیق پائی جیسا کہ بعض مستشرقین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔11 10 گھریلو زندگی اور پاکیزہ خصائل حضرت سودہ نہایت سادہ طبیعت کی تھیں، مزاج میں نیکی ایسی غالب تھی کہ نیکی اور بھلائی کی جو بات ایک دفعہ سن لی اس پر مضبوطی سے جم گئیں۔آپ کی سادگی کا مثبت پہلو یہ تھا کہ آپ ازراہ ادب رسول الله طی می کنم کے ارشاد کی کوئی تشریح یا تأویل کرنے کی بجائے اپنی سمجھ کے مطابق اس کی فوری اور لفظی تعمیل کی کوشش کرتی تھیں۔جیسے آنحضرت میں ہم نے حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے فرمایا تھا کہ شاید یہ میرا آخری حج ہو پھر اس کے بعد روک ہے۔حضرت سودہ چونکہ دین العجائز رکھتی تھیں اور سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ( یعنی سنا اور اطاعت کی ) ان کا مذہب تھا۔وہ حضور علی علیم کے بعض ارشادات کی پابندی ظاہری الفاظ کے مطابق بھی اصرار سے کرتی اور کہتی تھیں کہ حضور میں کیا تم نے حجۃ الوداع میں فرمایا تھا کہ بس یہی آخری حج ہے اس کے بعد روک ہے۔حضرت سودہ کے ساتھ حضرت زینب بھی کہا کرتی تھیں کہ آنحضور علم سے یہ بات سننے کے بعد ہم نے اس مقصد کے لئے کبھی اپنی سواری (حج کیلئے استعمال نہیں کی۔12