اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 332
اولاد النبی 332 حضرت امام حسین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں :۔امام حسین کا یزید کے خلاف کھڑ ا ہو نا دعوئے خلافت راشدہ کی بناء پر نہ تھا۔جو تیس سال گزرنے پر ختم ہو چکی تھی بلکہ اس لیے کہ رعایا کو ایک ظالم (یزید) کے ہاتھ سے چھڑایا جائے اور ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کی اعانت واجبات (دین) میں سے ہے۔17 دیگر علمائے اہل سنت بھی اس بات پر متفق ہیں کہ و بعض جاہلوں کی یہ رائے کہ حسین (حکومت وقت کے) باغی تھے باطل ہے۔غالباً یہ خوارج کے ہذیانات ہیں۔جو راہ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں۔18۔6 پس امت کے خدا ترس علماء اسلام نے حضرت امام حسین کو محض حاکم وقت کی بغاوت سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔جماعت احمدیہ کا مؤقف مگر آئے رسول اللہ لی لی لی ایم کے عاشق صادق حضرت بانی جماعت احمدیہ کا ارشاد بھی ملاحظہ کریں۔آپ فرماتے ہیں:۔حضرت امام حسین نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔۔۔نیت نیک تھی۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ " حضرت امام حسین نے شہادت کا وہ بلند مرتبہ پایا جس کے نتیجہ میں وہ زندہ جاوید ہو گئے۔جماعت احمد یہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔"امام م حسین یزید کے مقابلہ پر شہید ہوئے مگر کیا یزید کا نام بھی اب کوئی لیتا ہے۔جس مقصد کے لیے امام حسین کھڑے ہوئے آخر وہی کامیاب ہوا اور دنیا نے اسلامی نظام کی اسی تشریح کو قبول کیا جس کے لیے حضرت امام حسین کھڑے ہوئے تھے۔یزید کے مقصد کی تو آج ایک مسلمان بھی تائید نہیں کرتا۔۔۔۔۔اگر حضرت امام حسین کربلا کے میدان میں جان نہ دیتے تو مسلمانوں کو شاید اسلامی نظام کی اہمیت کا اس قدر احساس نہ ہوتا جس قدر کہ ان کی شہادت کی وجہ سے ہوا۔اس شہادت نے مسلمانوں میں اسلام کی تعلیم کے احیاء کے لیے گویا ایک آگ لگادی اور اسلام کے علماء نے اس تعلیم کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا " اسی طرح فرمایا:۔20 اگر کوئی شخص مارا جاتا ہے لیکن اس کے مرنے سے قوم کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے۔