اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 330 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 330

اولاد النبی 330 حضرت امام حسین زینب کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔حضرت حسین نے بہن کو خیمہ میں بھجوایا اور اپنے لخت جگر علی اکبر کی نعش خیمہ کے سامنے لار کھی۔دریں اثناء علی اکبر کے کم سن بھائی بھی شہید کر دئے گئے۔ان کی والدہ معصوم کی لاش دیکھ کر سکتہ میں آگئیں۔علی اصغر امام حسین کے ہاتھوں میں تھے ایک ظالم نے تیر مارا جو گلے میں پیوست ہوا۔اور وہ بھی شہید ہو گئے۔اس کے بعد مسلم بن عقیل کے بیٹے عبد اللہ اور پھر جعفر طیار کے پوتے عدی نے جام شہادت نوش کیا۔عقیل کے صاحبزادے عبد الرحمان اور حسن کے صاحبزادہ قاسم شہید ہوئے۔یہ دیکھ کر علمدار عباس کے کہنے پر عبداللہ ، جعفر اور عثمان تینوں بھائی امام حسین کے آگے دیوار بنا کر کھڑے ہو گئے اور جانیں نچھاور کر دیں۔اب آخری فرد عباس سامنے آئے اور دلیری سے جان فدا کر دی۔اہل بیت رسول کے ہیں جگر گوشے آن واحد میں میدان کربلا میں ذبح ہوئے پڑے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہادت امام حسین اب حضرت امام حسین میدان میں تنہارہ گئے۔وہ خوب جانتے تھے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔وہ سارے دن کی تلوار زنی اور اور تنہا اہل بیت کی نعشیں سنبھالنے کی مشقت سے چور تھے۔خیمہ میں موجود خواتین مبارکہ اور بیمار بیٹے زین العابدین سے آخری ملاقات کر کے میدان میں اترے۔آپ کمال شجاعت سے پہلے میمنہ پر اور پھر میسرہ پر حملہ آور ہوئے۔دشمن سے مقابلہ کرتے کرتے شدت پیاس کے باعث انہوں نے فرات کا رخ کیا اور گھوڑا پانی میں ڈال کر چاہا کہ وہ بھی پانی پی لے۔اس دوران ایک تیر دہن مبارک میں آلگا جس سے خون کا فوارہ چھوٹا۔پھر بھی آپ آخر دم تک مقابلہ کرتے رہے اور دشمن کو للکار کر کہا " خدا کی قسم آج کے بعد تم کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرو گے جس کی وجہ سے خدا اتنا ناراض ہو گا۔میں تو اپنے محبوب خدا کے پاس جاتا ہوں گے مگر وہ دونوں جہان میں تم سے میرا انتقام ضرور لے گا۔آپ کو شہید کرنے کے بعد کوفیوں نے خیموں کو لوٹنا شروع کر دیا حتی کہ خواتین مبارکہ کے سروں سے چادریں تک اتارنے سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔پھر عمر بن سعد نے منادی کروائی کہ کون اپنے گھوڑے کے سموں سے حضرت امام حسین کو پامال کرے گا۔یہ سن کر دس بد بخت سوار نکلے اور اپنے گھوڑوں سے آپ کی نعش کو روند ڈالا یہاں تک کہ آپ کے سینہ وپشت کو چور چور کر دیا۔حضرت امام حسین کے جسم پر پینتالیس 45 زخم تیروں کے ، تنتمیں 33 زخم نیزوں کے اور تنتا لیس 43 زخم