اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 12
ازواج النبی 12 تعددازدواج بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خداہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں۔کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دُنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر ہتھیلی پر رکھتے تھے۔ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی اُنگلی پر تلوار لگی اور خون جاری ہو گیا۔تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہو گئی۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمر کو یہ حال دیکھ کر رونا آیا۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر تو کیوں روتا ہے۔حضرت عمر نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔قیصر اور کسریٰ جو کا فر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اس دُنیا سے کیا کام! میری مثال اُس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اُس کو سخت تکلیف دی تو وہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھیر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اُسی گرمی میں اپنی راہ لی۔اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ساٹھ 60 برس تک پہنچ چکی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تعدد ازدواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تاوہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔" 16 11 بیویوں سے رسول اللہ علیم کے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔"رسول اللہ فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے بہتر انسان وہ ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آئے۔۔۔۔۔ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلعم کس قدر اپنی بیویوں سے حلم کرتے تھے۔"