اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 259 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 259

اولاد النبی 259 حضرت زینب بنت محمد اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ (الممتحنة : 11) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں مہاجر ہونے کی حالت میں آئیں تو ان کا امتحان لے لیا کر و۔اللہ ان کے ایمان کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔پس اگر تم اچھی طرح معلوم کر لو کہ وہ مومنات ہیں تو کفار کی طرف انہیں واپس نہ بھیجو۔نہ یہ اُن کیلئے حلال ہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال۔اس کے بعد حضرت زینب کی سفارش پر آنحضور طی یا تم نے ابو العاص کا سارا مال واپس کر دیا جسے لیکر وہ مگہ چلے گئے قریش کا مال ان کے سپرد کیا اور مدینہ واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی بیٹی زینب کو ان کی ہجرت کے چھ سال بعد 10 ابوالعاص کے مسلمان ہونے پر ان کے ساتھ پہلے نکاح پر ہی لوٹادیا کسی نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوئی۔0 ابوالعاص کے اپنے دین پر قائم رہنے اور حضرت زینب کی ہجرتِ مدینہ کے باعث ان کے رشتہ ازدواج میں جو روک پیدا ہوئی تھی وہ ابوالعاص کے اعلان قبول اسلام سے دور ہو گئی۔ہر چند کہ اس درمیانی عرصہ میں حضرت زینب دوسرے نکاح کا اختیار رکھتی تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہر کے قبولِ اسلام کے انتظار کو ترجیح دی۔اور یوں چھ سال بعد یہ امید بر آنے پر وہ پھر سے اس رشتہ میں منسلک ہو ہو گئیں۔حضرت مسور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیم نے ایک موقع پر اپنے داماد ابو العاص کا ذکر کیا اور یہ رشتہ نبھانے میں ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ " اس نے مجھ سے جو کہا سچ کہا اور جو وعدہ کیا اسے خوب نبھایا اسی بناء پر رسول اللہ صلی علی کریم نے ابو العاص سے دوبارہ کسی نکاح کے ذریعہ نئے مہر وغیرہ کی شرائط کی ضرورت نہیں سمجھی۔حضرت زینب کی اولاد حضرت زینب کی اولاد میں دو تین بچوں کا ذکر ملتا ہے ، جو کم سنی میں فوت ہو گئے۔ایک بیٹی حضرت امامہ کی شادی حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ سے ہوئی۔اور ان کی وفات کے بعد حسب وصیت 12 حضرت مغیرہ سے نکاح کیا۔حضرت زینب کے ایک صاحبزادے علی بن زینب نے بنی غاضرہ قبیلے میں