اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 158
ازواج النبی 158 حضرت جویریہ کیا؟ آپ نے فرمایا " اگر تمہاری مکاتبت کی رقم نو اوقیہ چاندی ادا کر کے میں آپ کے ساتھ عقد کرلوں۔حضرت جویریہ نے اس بات کو پسند کیا۔0 دوسری روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت جویریہ نے آنحضرت مسلم کی یہ تجویز صدق دل سے پسند کی یہاں تک کہ بعد میں جب ان کے والد حارث اپنے خیال میں بیٹی کو قید سے آزاد کروانے آئے تو انہوں نے آنحضور علم کی خدمت میں عرض کیا " مجھ جیسے سردار کی بیٹی کے لئے مناسب نہیں کہ اسے لونڈی بنا کر رکھا جائے۔میری آپ سے گزارش ہے کہ اسے آزاد کر دیں تاکہ وہ جہاں جانا چاہے جائے۔" حضور علی علی کریم نے فرمایا کہ " میں اسے اختیار دیتا ہوں اگر وہ آزاد ہو کر آپ کے ساتھ جانا چاہے تو آپ اسے لے جا سکتے ہیں۔مگر یہ ان کی مرضی پر منحصر ہو گا، "اوہ سردار اس پر بہت خوش ہوا مگر جب حارث اپنی بیٹی جویریہ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ آنحضرت علی کریم نے تمہیں اختیار دے دیا ہے۔آپ فدیہ کے ساتھ آزاد ہو کر ہمارے ساتھ جاسکتی ہیں۔اب خدا کے لئے ہمیں کہیں رسوا نہ کرنا مگر قربان جائیں حضرت جویریہ کے اس جواب پر جو انہوں نے اپنے والد کو دیا انہوں نے کہا " اب تو میں اللہ کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں۔اس لئے آپ لوگوں کے ساتھ واپس نہیں جاسکتی۔دراصل حضرت جویریہ رسول اللہ علیم کے حسن و احسان کو دیکھ کر آپ کی گرویدہ ہو چکی تھیں۔ابن ہشام کی روایت کے مطابق رسول اللہ علیم نے حضرت جویریہ کی حضرت ثابت سے مکاتبت کی رقم ادا کر کے اور انہیں آزاد کروا کے نکاح فرمالیا۔10 ابن ہشام کی ہی دوسری روایت میں یہ مزید تفصیل بھی ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر دورانِ سفر رسول اللہ صلی علیم نے ایک انصاری کو حضرت جویریہ کی خدمت اور حفاظت پر مامور کیا اور مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ادھر جویریہ کے والد حارث اپنی بیٹی کے فدیہ کی خاطر کئی اونٹ لے کر مدینہ کو روانہ ہوئے۔عقیق مقام پر پہنچے تو انہیں اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ بہت خوبصورت معلوم ہوئے۔جن کو انہوں نے عقیق کی گھائی میں چھپا دیا۔پھر آنحضور علی کم کی خدمت میں باقی اونٹ بطور فدیہ پیش کئے۔حضور عالم نے فرمایا ان دو اونٹوں کا کیا قصہ ہے جن کو تم نے عقیق کی گھاٹی میں چھپارکھا ہے۔حارث نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔خدا کی قسم سوائے اللہ