اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 103 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 103

ازواج النبی 103 حضرت حفصہ کریم سلیم بھی حقیقت حال معلوم کرنے اسکی جائے رہائش تشریف لے گئے۔اور اس سے کچھ سوالوں کے جواب پوچھ کر فرمایا کہ تم اپنی اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔رسول اللہ سکیم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ مدینہ کی کسی گلی میں آپ کے بھائی عبد اللہ کا ابن صیاد سے سامنا ہو گیا۔انہوں نے اسے کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے وہ سخت طیش میں آگیا اسکی رگیں پھول کر حالت غیر ہو گئی اس کے اظہار غصہ کی کیفیت کو دیکھ کر گلی لوگوں سے بھر گئی۔حضرت ابن عمر اپنی بہن ام المومنین حضرت حفصہ کے پاس آئے تو انہیں اس واقعہ کا علم ہو چکا تھا۔انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ ابن صیاد کے ساتھ تکرار سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ آپ کو پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی نیلم نے دجال کے خروج کی ایک نشانی اس کا غصہ بھی بیان کیا تھا۔اس لئے اسے نظر انداز کرنا چاہئے تھا۔18 رسول اللہ علی ایم کی ازواج سے حسن معاشرت اور فیض صحبت کی برکت رسول الله علی کریم کے عقد میں بیک وقت کئی ازواج کی موجودگی اور حضرت عائشہ و حفصہ کی دوستی کے باعث بسا اوقات آپس میں ایسے معاملات ہو جایا کرتے تھے جن سے وقتی طور پر حضور طی یتیم کے لیے بھی ایک عجیب مشکل صورتحال پیدا ہو جاتی مگر آنحضرت میں نم ہمیشہ عفو اور در گزر کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔ایک سفر میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ دونوں شریک تھیں۔آنحضرت میم سفر میں رات کو حضرت عائشہ کے ساتھ سفر کرتے اور ان سے باتیں کرتے تھے۔حضرت حفصہ نے ان سے کہا کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہو جاتیں اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہو جاؤں۔پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھوں۔حضرت عائشہؓ نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔پھر وہ ان کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔حضور طی کنیم (حسب عادت ) حضرت عائشہؓ کے اونٹ کی طرف آئے جس پر اب حفصہ تھیں۔آپ نے ان کو سلام کیا پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے پڑاؤ کیا۔ادھر حضرت عائشہ کو رسول اللہ لی یمن کی جدائی کا احساس ہوا چنا نچہ پڑاؤ کی جگہ انہوں نے گھاس پر اپنے پاؤں رکھ دئے اور کہتی رہیں کہ اے میرے رب ! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کردے۔جو مجھے کاٹ لے۔در آنحالیکہ میں آنحضور عمل می کنیم کو کوئی جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔مگر یہ آنحضرت مال یتیم کا ہی اعلیٰ ظرف تھا کہ آپ نے دونوں ازواج سے در گزر فرمایا۔