اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 102
ازواج النبی 102 حضرت حفصہ بلاشبہ اللہ تعالی کی طرف سے حضرت حفصہ کے حق میں یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے۔جس سے آپ کے روحانی مقام کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حضرت حفصہ کی طلاق کی اطلاع جب حضرت عمرؓ کو پہنچی تو انہوں نے سخت فکر مندی اور گھبراہٹ کے عالم میں اپنے سر میں خاک ڈال کر کہا کہ جب میری بیٹی رسول اللہ صلی می کنیم 15 کے عقد میں نہیں رہے گی تو اللہ تعالی عمر کی کیا پر واہ کر یگا۔0 حضرت عمرؓ کا یہ رد عمل ان کی کمال عاجزی اور انکساری کے ساتھ محبت رسول ” کو بھی ظاہر کرتا ہے۔الغرض حضرت عمرؓ اپنی تمام تر جرات اور حوصلہ مندی کے باوجود بہت فکر مند ہوئے کہ یہ رشتہ نہ رہا تو خدا معلوم کیا بنے گا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی التجاء سنی۔چنانچہ دوسری روایت کے مطابق آنحضرت طلی تم نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا تھا " اللہ تعالی نے مجھے حفصہ سے رجوع کا حکم دیا ہے اور اس کا ایک سبب حضرت عمر پر اللہ تعالی کی رحمت اور شفقت کا اظہار بھی ہے۔" چنانچہ آپ نے طلاق سے رجوع کر لیا۔حضرت حفصہ سے طلاق کے بعد رجوع کا یہ واقعہ صحاح ستہ کی کتب ابوداؤد ، نسائی، ابن ماجہ کے علاوہ طبرانی اور ابن سعد وغیرہ میں مذکور ہے جو جائے اعتراض نہیں۔بے شک عام حالات میں طلاق ناپسندیدہ ہے، مگر اس کے باوجود بشرط تقویٰ اور عند الضرورت جو از طلاق اسلامی تعلیم کی جامعیت اور سہولت کا ایک امتیازی پہلو ہے اور یہ جملہ روایات سورہ طلاق کی آیت 2 اور سورہ بقرہ کی آیت 230 کی عملی تفسیر نبوی ہیں۔جن سے سنتِ طلاق کے ساتھ سنت رجوع طلاق کا بھی علم ہوتا ہے۔اور جہاں تک کسی بیوی کو طلاق دینے یا اس کے ارادہ کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود نے اصولی اور عقلی طور پر رسول اللہ لی ایم کے ارادہ طلاق کا جواز حضرت سودہ کے حق میں تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے ”اس میں بھی کوئی برائی نہیں۔اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔خشیت 17 66 حضرت حفصہ نے رسول اللہ علیم سے دجال کے بارہ میں جو کچھ سنا تھا اس پر ایسا پختہ ایمان اور یقین تھا کہ شبہ کی بناء پر بھی اس سے خائف رہتی تھیں۔مدینہ میں ایک مشتبہ الحال مجذوب سا شخص ابن صیاد تھا۔اس میں دجال کی بعض نشانیاں پائے جانے کی خبر سن کر اس اندیشہ کا اظہار فرمایا کہ کہیں وہی دجال نہ ہو۔رسول