اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 86
ازواج النبی 86 حضرت عائشہ حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ دونوں نبی کریم ملی علم کی رات کی عبادت کے بارہ میں اس پر متفق ہیں کہ 60 آپ رات کے ہر حصہ میں مختلف اوقات میں نوافل ادا کیا کرتے تھے۔0 حضرت عائشہ اور حضرت علی دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ م م جب کسی مریض کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے۔أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا - 61 ترجمہ :۔اے انسانوں کے ربّ! بیماری کو دور کر دے تو شفاء عطا فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں۔ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔پھر حضرت عائشہ اور حضرت علی میں باہم احترام کا تعلق تھا۔حضرت مقداد بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ مجھے کسی ایسے شخص کے بارہ میں بتائیں جس سے میں موزوں پر مسح کے مسئلہ کے بارہ میں پوچھ سکوں۔انہوں نے کہا حضرت علی کے پاس جاؤ کہ انکار سول اللہ کے ساتھ ایسا قریبی تعلق تھا کہ ان کے اکثر اوقات حضور می یتیم کی صحبت میں گزرتے تھے۔میں نے حضرت علیؓ ย 62 سے آکر پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ لی لی ہم نے ہمیں سفر میں موزوں پر مسح کا ارشاد فرمایا تھا۔سخاوت اور انفاق فی سبیل اللہ حضرت عائشہ عالمہ ، فاضلہ ہونے کے ساتھ بہت خدا ترس اور اللہ تعالی پر کامل توکل کر نیوالی اور اسکی راہ میں کھلا خرچ کرنے والی اور بہت سخی بزرگ تھیں۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے ایک دفعہ آپ کو دو تھیلے اشرفیوں کے بھجوائے جن میں ایک لاکھ اسی ہزار درھم تھے۔حضرت عائشہ اس دن روزے سے تھیں آپ ان کو تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئیں اور اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ اٹھیں جب تک کہ سارے در ہم تقسیم نہیں ہو گئے۔افطاری کے وقت آپ کی لونڈی کہنے لگیں کہ ام المومنین ! ایک در ہم اپنے لئے بھی رکھ لیا ہوتا، اس سے گوشت خرید کر افطاری ہی کر لیتیں۔فرمانے لگیں کہ تم یاد دلادیتیں تو رکھ بھی لیتے۔گویا انہیں اپنی ضرورتوں کا بھی خیال نہیں تھا اور سب کچھ خدا کی راہ میں لٹادیتی تھیں۔63