اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 83
ازواج النبی 83 حضرت عائشہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بیماری میں جس دن آپ میرے گھر تشریف لائے بالکل پُر سکون ہوگئے دیگر ازواج مطہرات نے جب یہ محسوس کیا کہ بیماری کی حالت میں آپ کو حسب منشاء آرام و سکون کی ضرورت ہے اور آپ کے دلی راحت و سکون کی خاطر متفقہ فیصلہ کر کے یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ میم ! ہم پسند کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ کے گھر میں ہی اب آپ کی تیمار داری ہو۔چنانچہ آخری ایام میں حضرت عائشہ مسلسل حضور ملی یکم کی تیمار داری فرماتی رہیں۔آپ فرمایا کرتی تھیں اور بجاطور پر آپ کو اس بات کا فخر تھا کہ حضور طی یا تم نے میرے گھر میں میرے کمرے میں اس حال میں جان دی کہ میرے سینے کے اوپر آپ کا سر تھا اور آخری لمحوں میں میر العاب حضور طلی کیم کے لعاب کے ساتھ مل گیا اس واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ آخری بیماری میں حضور ملی در تیم لیے ہوئے تھے۔حضرت عائشہ کے بھائی حضرت عبدالرحمن آئے ، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔آپ کو مسواک کی خواہش پیدا ہوئی۔حضرت عائشہ نے آپ کی نظروں کا مفہوم بھانپ کر حضرت عبدالرحمن کے ہاتھ سے وہ مسواک لی اس کو دھو کر چبا کر نرم کیا اور آنحضرت میم کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضور طی یہ کہ تم نے وہ مسواک استعمال کی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے اچھی مسواک کرتے پہلے نہیں دیکھا تھا۔" آپ فرماتی تھیں ان آخری لمحوں میں حضور طی تم نے میرے سینے پر سر رکھے ہوئے جان دے دی اور آپ کی زبان پر یہ کلمے جاری تھے کہ اپنے اس اعلیٰ دوست کی طرف جاتا ہوں اپنے اس بڑے اور بلند اور بزرگ و برتر دوست کی طرف میں سفر کرتا ہوں" یہ کہتے ہوئے آپ اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُون۔علمی مقام حضرت عائشہ علمی مزاج رکھتی تھیں۔اگر چہ ان کے خواندہ ہونے کے بارہ میں اختلاف ہے۔تاہم یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس قرآن کا ایک لکھا ہوا نسخہ موجود تھا۔جس سے انہوں نے ایک عراقی مسلمان کو بعض آیات املاء کروائی تھیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے رخصتانہ کے بعد کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ لیا ہو گا۔52 آنحضرت علم کا عائشہ کے ساتھ شادی کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ آنحضرت کی پاکیزہ صحبت اور تعلیم و تربیت سے فیضیاب ہوں اور علم سیکھیں اور آگے امت کو سکھانے والی ہوں۔اور آپ کا یہ مقصد بدرجہ اتم پورا