اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 82 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 82

ازواج النبی 82 حضرت عائشہ اپنی بیویوں کو یہ فرمایا کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کی خواہاں ہو تو آؤ میں تمہیں بہت سامال و منال دے کر رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت کی طلب گار ہو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالی نے اعلیٰ درجہ کی نیکی بجالانے والی بیویوں کیلئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول الله طی کنیم نے یہ اختیار کا آغاز مجھ سے کیا اور مجھ سے نہایت سنجیدگی سے فرمانے لگے ”اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھنے والا ہوں۔تم اس بارے میں جلدی مت کرنا اور اپنے والدین سے مشورہ کر کے مجھے جواب دینا۔“ 48 حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ حضور میں تم کو معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے حضور میں ہم سے جدائی کا مشورہ کبھی نہیں دیں گے۔پھر حضور یا تم نے مجھے آیت تخییر پڑھ کر سنائی۔میں نے کہا ” آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔میں کس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی، مجھے تو بس اللہ اور اس کار سول اور آخرت کا گھر چاہیے، آپ فرماتی تھیں کہ باقی سب ازواج نے بھی یہی جواب دیا۔الغرض ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جو تقویٰ کے بلند اور روشن مینار پر فائز تھے۔بسا اوقات اس خیال سے کہ دل کے جذبوں اور طبعی میلان پر تو کوئی اختیار نہیں اس لئے اگر سب بیویوں کے برابر حقوق ادا کرنے کے بعد بھی میلان طبع کسی بیوی کی جانب ہو گیا تو کہیں میرا مولی مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔انتہائی مخلصانہ عدل اور منصفانہ تقسیم کے بعد بھی آپ یہ دعا کرتے تھے کہ ” اے اللہ تو جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسانی حد تک جو حضۂ رسدی تقسیم ہو سکتی تھی وہ تو میں کرتا ہوں اور اپنے اختیار سے بری الذمہ ہوں۔میرے مولی اب دل پر تو میرا اختیار نہیں اگر قلبی میلان کسی کی خوبی اور جوہر قابل کی طرف ہے تو مجھے معاف فرمانا۔مزاج شناس بیوی 49۔66 حضور میں تم کو ج آرام اور سکون حضرت عائشہ کے ہاں حاصل تھا اس کا علم تمام ازواج مطہرات کو بخوبی تھا۔اس حوالے سے آخری بیماری میں آپ بار بار بے چین ہو کر پوچھتے تھے کہ عائشہ کی باری کب ہے؟ چنانچہ باقی ازواج مطہرات نے خود ہی آپ کو حضرت عائشہ کے گھر تیمار داری کی اجازت دے دی۔50