اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 56 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 56

ازواج النبی 56 حضرت سوده رض کی بیویوں میں ہی میر احشر ہو ، اس لئے میں آپ سے علیحد گی نہیں چاہتی ، تاہم اپنے حقوق زوجیت سے دستبردار 23 ہوتی ہوں اور حضرت عائشہ کے حق میں میں اپنی باری چھوڑتی ہوں۔اس درخواست سے ان کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنا تھا، حضور ملی ہم نے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی۔حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ سورہ نساء کی آیت 129 کا اسی مضمون سے تعلق ہے جس میں ارشاد ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ رویے یا عدم توجہی کا خوف کرے تو ان دونوں پر کوئی گناہ تو نہیں کہ اپنے درمیان اصلاح کرتے ہوئے صلح کر لیں۔بعض روایات میں جو رسول اللہ لی تعلیم کے حضرت سودہ کو طلاق دینے کے ارادہ کا ذکر ہے وہ اصول روایت اور درایت ہر دو لحاظ سے لائق اعتبار نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت سودہ نے خود ہی کسی وسوسہ یا اندیشہ سے برضاور غبت اپنے حقوق چھوڑ دیئے تھے۔2466 اس بارہ میں حضرت مسیح موعود ایک معاند عیسائی پادری فتح مسیح کے اعتراض کارڈ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔" یہ اعتراض کہ آنحضرت ملی یا کلیم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روایتیں کی ہیں۔وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کس شخص کے پاس آنحضرت علیم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا۔پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی۔ایسا نہ ہو کہ آنحضرت علی تیم باعث طبعی کراہت کے جو منشاء بشیریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو۔اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو۔کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں و ہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے۔اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میر احشر ہو۔چنانچہ نیل الاوطار کے ص 140 میں یہ حدیث ہے۔۔۔۔۔۔یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شاید میں آنحضرت میں تم سے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یار سول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی آپ نے اس کی یہ درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید