اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 54 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 54

ازواج النبی 54 رض حضرت سوده میں ( غالباً کسی سفر پر روانگی کے وقت) یہ عجیب درخواست کی کہ اگر آپ کی عدم موجودگی میں ہماری موت آجائے تو اجازت فرما دیں کہ حضرت عثمان بن مظعون (جو ایک زاہد و عابد بزرگ صحابی تھے ) ہمارا جنازہ پڑھا دیں۔رسول اللہ سلیم نے فرمایا اے زمعہ کی بیٹی ! کاش تمہیں موت کا صحیح ادراک ہوتا تو پتہ چلتا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہے جتنا تم گمان کرتی ہو۔زہد اور شوق عبادت 18 ایک دفعہ حضرت سودہ کے دل میں آنحضرت لیلی می ریم کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ان کی باری میں رسول کریم علی یا تم جب تہجد کے لئے اٹھے تو یہ بھی آنحضور می یتیم کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑی ہو گئیں۔ان کا جسم بھاری تھا۔ادھر آنحضور طی یہ رات کو اکیلے میں لمبی نماز پڑھتے۔لمبا قیام رکوع اور طویل سجدے ہوتے تھے۔اگلی صبح جب حضور صلی علی الیتیم سے اس نماز کے بارہ میں اپنا تاثر بیان کیا تو بے تکلفی سے یوں کہہ دیا کہ یارسول اللہ صلی یا تم ! میں نے رات آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے تو اتنا لمبار کوع کر وایا کہ بالآخر میں نے اپنی ناک ہی پکڑ لی کہ رکوع میں جھکے جھکے کہیں نکسیر ہی نہ پھوٹ پڑے۔آنحضور طی یا تم یہ تبصرہ سن کر خوب محظوظ ہوئے۔عشق رسول مل السليم 19 حضرت سودہ کو رسول کریم ملی تم سے ایک عشق تھا۔آخری بیماری میں آنحضور طی تم نے جب یہ فرمایا کہ ازواج مطہرات میں سے سب سے جلد وہ بیوی مجھے اس جہاں میں آکر ملے گی جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں۔اب بظاہر یہ موت کی خبر تھی مگر بیویاں ہیں کہ شوق کے عالم میں سرکنڈے سے باز وماپ رہی ہیں کہ دیکھیں تو سہی وہ لمبے ہاتھوں والی سعادت مند کون ہے جو اپنے آقا کے پاس سب سے پہلے پہنچے گی، گویا از واج رسول جان و دل سے آپ پر فدا ہو چکی تھیں اور آپ پر جان چھڑکتی تھیں۔خیر ! حضرت سودہ جو لمبے قد کی تھیں انہیں کے ہاتھ لمبے نکلے اور وہ اس پر بہت خوش تھیں کہ پہلے میرے حصے میں یہ سعادت آئے گی اور میں سب سے پہلے اپنے آقا سے جاملوں گی۔20