اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 53 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 53

ازواج النبی 53 رض حضرت سوده آپ نے فرمایا کہاں ظاہر ہوا ہے اس نے تو ظاہر ہونا ہے۔پھر حضور صلی یا نیلم نے حضرت سودہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے مٹی اور جالے وغیرہ صاف کئے۔16 ย حضرت عائشہ کا حضرت سودہ کے ساتھ محبت اور بے تکلفی کا خاص تعلق تھا۔دیگر ازواج مطہرات میں سے حضرت حفصہ ، حضرت صفیہ، حضرت زینب بنت جحش کے ساتھ بھی حضرت سودہ کا خاص لگاؤ تھا۔اور باوجو د سوت پن کے ان کی صاف دلی کے باعث گھریلو ماحول میں بے تکلفی اور پیار و محبت کا عجیب رنگ پایا جاتا تھا۔رسول اللہ علیم بھی اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اہل خانہ کے ساتھ بیٹھنے کیلئے بھی وقت نکالتے اور جائز حد تک انہیں دل لگی کی اجازت دیتے اور دلچسپی کے سامان بہم پہنچاتے تھے۔حضرت سودہ کی سادگی ، صفائی قلب اور ہمدردی خلق کا جذبہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب غزوہ بدر میں ستر کفار قریش قیدی ہو کر آئے جن میں بعض بڑے سردار اور رؤساء بھی تھے۔حضرت سودہ بعض سرداران قریش کو اپنے گھر میں قید دیکھ کر سادگی میں بے ساختہ ایسا اظہار کر بیٹھیں جور سول اللہ ہم کو طبعاً ناگوار ہوا مگر آپ نے حضرت سودہ کی معذرت قبول فرمالی۔یہ واقعہ خود حضرت سودہ یوں بیان فرماتی ہیں کہ جب مدینہ میں اسیر ان بدر کے آنے کی خبر پہنچی اور میں کسی دوسرے گھر سے اپنے گھر واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سردار قریش ابو یزید سہیل بن عمر و ہمارے گھر کے حجرے کے ایک کونے میں اس حال میں قید ہے کہ اس کے ہاتھ گردن سے رسی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔آپ فرماتی ہیں کہ سردار قریش ابو یزید کو اس حال میں دیکھ کر میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور بے اختیار ہو کر کہا کہ "اے ابو یزید ! قید ہونے سے تو بہتر تھا تم عزت کے ساتھ مر جاتے " آپ فرماتی ہیں میرا یہ کہنا تھا کہ دوسری طرف رسول اللہ علیم کی اس آواز نے مجھے چونکادیا کہ اے سورہ ! کیا تم اللہ اور رسول کے خلاف انہیں اکساتی ہو ؟ آپ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله ل ل ل ل لم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، دراصل جب میں نے ابو یزید کو اس حال میں قید دیکھا کہ اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہیں تو بے اختیاری میں ایسا کہ بیٹھی ہوں۔ورنہ معاذاللہ ہر گز میرا ایسا کوئی منشاء نہیں۔حضرت سودہ کو اپنی نیک عاقبت اور انجام بخیر کی بھی فکر رہتی تھی۔آپ نے آنحضور سے یہ بھی سن رکھا تھا کہ جنازہ میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے رسول اللہ صلی علیم کی خدمت