اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 51
ازواج النبی 51 رض حضرت سوده 13 اسی طرح حضرت سودہ بنت زمعہ رسول اللہ لی تعلیم کی کامل فرمانبرداری میں بھی ایک نمونہ تھیں۔فتح مکہ کے موقع پر ان کے باپ کی لونڈی سے پیدا ہونیوالے بچے کے نسب کا تنازعہ ہوا۔حضرت سعد بن ابی وقاص کے مشرک بھائی عتبہ نے زمعہ کی لونڈی کے ساتھ تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اس بچے کے بارہ میں اپنے بھائی (سعد) کو وصیت کی تھی کہ ”یہ میرا بچہ ہے اس کا خیال رکھنا۔“رسول کریم نے اس کا اصولی فیصلہ نسب کے لحاظ سے یہ فرمایا کہ زمعہ کی لونڈی کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ تو زمعہ کا ہی شمار ہو گا۔مگر چونکہ اس بچہ کی شکل و شباہت مدعی فریق عتبہ بن وقاص سے ملتی تھی۔اس لئے مصلحتاً یہ ہدایت بھی فرمائی کہ حضرت سودہ والد کی طرف سے اس بھائی سے پر وہ کیا کریں گی۔حضرت سودہ نے اس ارشاد کی ایسی پابندی فرمائی کہ پھر کبھی اس بھائی سے ملنے کی خواہش نہیں کی اور آخری دم تک اسے نہیں دیکھا۔ایک واقعہ احکام پردہ کے نزول کے زمانہ کا ہے۔عرب عورتوں میں عام طور پر پردہ کا کوئی رواج نہیں تھا تاہم معزز خاندانوں کی عورتیں عزت و وقار کی علامت کے طور پر چادر وغیرہ لیتی تھیں۔اور زیادہ تر گھروں میں ہی ٹھہری رہتی تھیں۔حضرت عمرؓ کی طبیعت میں ازواج رسول کے احترام اور پردہ کے بارہ میں شدت تھی۔انہوں نے ام المومنین حضرت سودہ کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا اور لمبے قد کے باعث انہیں پہچان لیا۔حضرت عمر کی ذاتی رائے تھی کہ ازواج مطہرات کو مکمل پردہ کی خاطر گھر میں ہی ٹھہر نا چاہئے۔اور ان کو باہر نہیں نکلنا چاہئے۔حضرت سودہ عرب دستور کے مطابق حسب ضرورت پر دے کے ساتھ گھر سے باہر بھی چلی جاتی تھیں۔ایک رات جب آپ گھر سے باہر نکلیں تو حضرت عمرؓ نے انہیں بلند آواز سے پکار کر کہا عَرَفْنَاكِ يا سَوْدَة۔کہ اے سودہ ! ہم نے آپ کو پہچان لیا۔حضرت سودہ ناراض ہو کر وہیں سے واپس گھر پلٹ آئیں۔سیدھی رسول اللہ علیم کے پاس اس بیوی کے گھر پہنچیں جہاں آپ کی باری تھی۔آپ کھانا تناول فرمارہے تھے۔حضرت سودہ نے حضور کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ یارسول اللہ عالم حضرت عمر بن الخطاب آپ کی ازواج مطہرات کے بارہ میں بآواز بلند یہ کہنے لگے ہیں کہ ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔اس وقت نبی کریم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور پردہ کے بارہ میں آیات اتریں جن میں ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ حسب ضرورت باہر جانے کے اشارے بھی موجود ہیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا " اے سودہ ! تم عورتوں کو اجازت دی گئی ہے کہ ضرورت اور کام کی خاطر باہر جاسکتی ہو "