اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 47
ازواج النبی فصائل:۔47 ย ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ حضرت سوده رض رسول اللہ علیم سے حضرت سودہ کا نکاح بھی الٹی منشاء کے مطابق تھا۔چنانچہ انہوں نے شادی سے قبل دو ایسی واضح رؤیا دیکھیں جنکی تعبیر خود ان کے شوہر نے یہ کی کہ انکی وفات کے بعد حضرت سودہ رسول اللہ صلی علی ایک یتیم کے عقد میں آئیں گی۔۔حضرت خدیجہ کے بعد حضرت سودہ آنحضور علم کا گھر سنبھالنے والی، نہایت سادہ طبع خاتون تھیں۔فرماتی تھیں کہ " مجھے دیگر ازواج سے مقابلے کی تو کوئی تمنا نہیں۔ہاں یہ خواہش ضرور ہے کہ قیامت کے روز آپ کی بیویوں میں ہی میر احشر ہو۔" حضرت عائشہؓ نے حضرت سودہ کے بارہ میں کیا خوبصورت رائے دی کہ " مجھے کبھی کسی کے متعلق یہ خواہش نہیں ہوئی کہ میں اس جیسی ہو جاؤں سوائے حضرت سودہ کے کہ ان کی بھولی بھالی ادائیں اختیار کرنے کو جی چاہتا ہے اور بے اختیار دل کرتا ہے کہ کاش! میں بھی ان کی طرح ہوتی اور ان جیسا پاک اور صاف دل ان جیسی بھولی بھالی ادا ئیں مجھے بھی نصیب ہو جاتیں " نام و نسب حضرت سودہ کے والد زمعہ بن قیس قریش میں سے تھے جبکہ آپ کی والدہ شموس بنت قیس مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔رسول اللہ علیم کے دعوی نبوت کے بعد ابتدائی زمانے میں ہی حضرت سودہ کو اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ان کی شادی اپنے چا زاد سکران بن عمر و القرشی سے ہوئی تھی۔انہوں نے بھی ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کر کے آنحضرت لیلی کیم کے صحابی ہونے کا اعزاز اور حبشہ ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔حضرت سودہ بھی ہجرت حبشہ میں ان کے ہمرکاب تھیں۔حبشہ سے واپس مکہ لوٹے تو حضرت سکر ان کی وفات ہو گئی۔