اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 38 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 38

ازواج النبی 38 حضرت خدیجہ رض غزوہ بدر میں جب آنحضرت علی عیاری سکیم کے داماد ابو العاص دیگر کفار مکہ کے ساتھ قید ہو کر آئے تو صاحبزادی حضرت زینب مکہ میں تھیں۔انہوں نے اپنے شوہر کی آزادی کے لئے فدیہ کے طور پر وہ ہار بھجوادیا جو حضرت خدیجہ نے شادی کے موقع پر انہیں دیا تھا۔وہ ہار جب حضور ملی ہم نے دیکھا تو پہچان لیا آپ کو حضرت خدیجہ کی دلگر از یاد کچھ اس طرح آئی کہ رقت طاری ہو گئی۔وہ کیا ہی عجیب منظر ہو گا جب حضرت خدیجہ کے احسانات یاد کر کے آنحضرت علی نم کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا جائے۔چنانچہ وہ ہار واپس لوٹا دیا گیا جو ایک عظیم ماں حضرت خدیجہ کی اپنی بیٹی کیلئے شادی کے موقع پر ایک قیمتی نشانی تھی البتہ ابو العاص بن ربیع پر ان کی رہائی کے عوض یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ اپنی مسلمان بیوی اور رسول الله طی ی ی یتیم کی صاحبزادی حضرت زینب کو بخیر و عافیت حضور کے پاس مدینہ بھجوادیں۔حضور می یتیم کی اس خواہش کے احترام میں صحابہ نے وہ ہار واپس کر دیا اور ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا گیا۔ابو العاص بھی باوفا نکلے انہوں نے بھی اپنے عہد کا حق خوب ادا کر دکھایا۔مکہ واپس جاتے ہی انہوں نے حسب وعدہ اپنی بیوی حضرت زینب کے لئے ایسا انتظام کیا کہ وہ مدینے آنحضرت طی نیم کے پاس پہنچ سکیں۔حضور علیم نے ابو العاص کی اس نیکی کو ہمیشہ یادر کھا۔آپ ان کے بارہ میں فرماتے تھے "انہوں 32 نے دامادی کارشتہ خوب نبھایا۔مجھ سے جو بات کی سچ کہی اور میرے ساتھ جو وعدہ کیا وہ خوب نبھایا۔" اسی نیکی و خوبی کی بدولت بالآخر ابو العاص کو بعد میں قبول اسلام کی بھی توفیق عطا ہوئی۔حضرت خدیجہ کے بطن سے حضور ملی یک کم کی جو نرینہ اولاد ہوئی وہ ان کی زندگی میں کم سنی میں ہی وفات پاگئی۔صدمات کے ان مواقع پر آنحضرت سلیم کا پاکیزہ نمونہ دیکھ کر حضرت خدیجہ نے بھی کمال صبر دکھایا۔صاحبزادہ قاسم ابھی دودھ پیتے بچے تھے کہ ان کی وفات ہو گئی۔حضرت خدیجہ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔ایک دن گھریلو ماحول میں بس اتنا عرض کیا، یارسول الله م ا قاسم کے ایام رضاعت مکمل نہیں ہوئے تھے اگر اللہ تعالی اسے چند دن اور مہلت دے دیتا اور اس کی رضاعت کی مدت پوری ہو جاتی (قرآن کریم میں مکمل رضاعت کی مدت دو سال مذکور ہے۔(البقرة: 234) تو کیا ہی اچھا ہوتا، ہم چند دن اور بچے کے ساتھ گزار لیتے۔حضور نے فرمایا کہ " قاسم کی رضاعت جنت میں پوری ہو گی۔حضرت خدیجہ نے عرض