اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 36
ازواج النبی 36 حضرت خدیجہ رض الغرض حضرت خدیجہ وہ تھیں جنہوں نے رسول اللہ لی ایم کی پہلی وحی کے معابعد آپ کی تصدیق کی بلکہ ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاکر ان کی طرف سے تصدیق کروانے کا موجب بھی ٹھہریں۔بعد میں کسی موقع ہوتا۔25 " رض پر آنحضرت لعلیم سے ورقہ کی نسبت سوال ہوا کہ آخرت میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ حضرت خدیجہ نے عرض کیا کہ یارسل اللہ علی کی پہلی وحی کے بعد انہوں نے آپ کی تصدیق تو کر دی تھی، اگر چہ وہ بعد میں جلد وفات پاگئے۔آنحضور تم نے فرمایا کہ "ہاں، میں نے ان کو خواب میں دیکھا ہے کہ انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اور اگر وہ اہل نار میں سے ہوتے تو ان پر یہ لباس نہ حضرت خدیجہ نے رسول کریم منم کی پہلی وحی کے موقع پر جو یہ شہادت دی کہ آپ صلہ رحمی کرنے والے، مہمان نواز اور حقیقی مصائب میں لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ان الفاظ سے خود حضرت خدیجہ کے پاکیزہ اخلاق پر بھی روشنی پڑتی ہے کیونکہ یہ تینوں باتیں یعنی صلہ رحمی یارشتہ داروں سے حسن سلوک، مہمان نوازی اور مصیبت زدگان کی امداد ، گھر کی مالکہ اور حضرت خدیجہ جیسی مخیر اور صاحب ثروت خاتون کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھیں۔بلاشبہ وہ رشتہ داروں سے حسن سلوک میں رسول الله علیم کی اول درجہ کی معاون تھیں۔چنانچہ جب رسول اللہ سلم نے اپنے چچا ابو طالب کے کمزور مالی حالات کے باعث ان کے بیٹے حضرت علی کو اپنی کفالت میں لیا تو یہ حضرت خدیجہ ہی تھیں جنہوں نے ان کو اپنے گھر میں رکھ کر سنبھالا اور خیال رکھا۔اسی طرح بحیثیت خاتونِ خانہ مہمان نوازی میں ہمیشہ آپ نے اپنا خدمت کا حق کامل طور پر ادا کیا۔ابتدائی دور میں ایمان لانے والے مسلمانوں کی مہمان نوازی اور خاطر داری ایک اہم خدمت تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے عزیز و اقارب کو الہی حکم کے تحت انذار کرنے اور پیغام حق پہنچانے کیلئے اکٹھا کیا تو حضرت علی کو ہدایت فرما کر ان کے لئے دو مرتبہ دعوتِ طعام کا خصوصی انتظام کروایا، اس کھانے میں بکری کے پائے کا خاص اہتمام چالیس افراد کے لیے کیا گیا۔اس زمانہ میں حضرت علیؓ کے علاوہ گھر یلو خدمات کے لحاظ سے حضرت خدیجہ نہی رسول اللہ علیم کی خاص مد و معاون تھیں۔26 حضرت خدیجہ کی ایک اور اہم فضیلت ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانا ہے۔رسول اللہ لی تم کو ان کی اس خصوصیت کا ہمیشہ خیال رہا۔آپ ان کے فضائل میں اس بات کا تذکرہ فرماتے