اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 35
ازواج النبی 35 حضرت خدیجہ رض گئی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اِقْرَا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (ترجمہ) پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھ اور تیر ارب سب سے زیادہ معزز ہے۔جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔(العلق : 2تا6) چنانچہ رسول اللہ لی لیکن ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے اور آپ کے کندھوں کے پٹھے کانپ رہے تھے۔یہاں تک کہ آپ حضرت خدیجہ کے پاس آئے اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا اور پھر آپ سے وہ گھبراہٹ جاتی رہی۔پھر آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا: اے خدیجہ ! میرے ساتھ کیا گزری اور پھر ان کو ساری بات بتائی۔آپ نے فرمایا: مجھے تو اتنی بڑی ذمہ داری لیتے ہوئے) اپنی جان کا ڈر ہے۔حضرت خدیجہ نے اس نازک موقعے پر کمال اعتماد سے آنحضرت علی ایم کی ہمت بندھائی اور آپ کے شاندار اخلاق فاضلہ کو گواہ ٹھہرا کر آپ کو حوصلہ دیا اور انتہائی یقین سے تسلی دیتے ہوئے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ کی جان کو کوئی خوف یا خطرہ لاحق ہو بلکہ آپ کو بشارت ہو کہ کوئی عمدہ پیغام آپ کے پاس آیا ہے۔اللہ تعالی کبھی بھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔کیونکہ آپ رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے اور سچی بات کہتے ہیں ، آپ لوگوں کے بوجھ اٹھاتے اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصائب حقہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں ایسے اخلاق فاضلہ رکھنے والے انسان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے پھر انہوں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ آنحضرت لم کی مزید تسلی کی خاطر آپ کو اپنے چچازاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو کر اس مذہب کا کافی علم حاصل کر چکے تھے ، وہ عبرانی زبان کے عالم اور توریت و انجیل بھی پڑھے ہوئے تھے۔حضرت خدیجہ نے ان سے کہا اے میرے چچا کے بیٹے ! ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو۔ان کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ہے ورقہ بن نوفل نے آنحضور طی نم کی گفتگوسن کر کہا کہ “ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ ہم پر بھی نازل ہوا تھا۔اے کاش! اس وقت میں جوان اور صحت مند ہوں۔جب آپ کی قوم آپ کو اپنے وطن سے نکال دے گی۔”حضور نے از راہ تعجب فرمایا کہ کیا میرے جیسے ( نفع رساں اور خادم خلق) کو قوم اپنے وطن سے نکال باہر کر دے گی؟ ورقہ نے کہا کہ ”ہاں ! پہلے اسی طرح ہی ہوتا آیا ہے۔24 66 ا ہے۔23 "