اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 34 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 34

ازواج النبی 34 حضرت خدیجہ رض میر اسلام کہیے اور جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دیجئے جس میں کوئی شور وشغب یا تھکان نہ ہو گی۔" 2111 حضرت خدیجہ نے اس کا جو خوبصورت جواب دیاوہ ان کی عقل و ذہانت کا شاہکار ہے۔انہوں نے کہا اللہ تو خود سلام ہے ( یعنی سلامتی کا سر چشمہ ہے اور سلامتی اس سے جاری ہوتی ہے ) اور جبریل علیہم کو بھی سلام ہو۔رض حضرت خدیجہ کے لئے جنت میں موتیوں کے گھر کی جو پیش خبری دی گئی تھی اس میں یہ پیغام تھا کہ وہ خدیجہ جو ہر حال میں آنحضرت طی یتیم کی ڈھارس بنیں ، ایک ایسی امیر کبیر خاتون جن کی اپنی خدمت پر کئی خادمائیں مقرر ہوتی تھیں ، وہ خود اپنے اس عظیم شوہر کی خدمت پر کمر بستہ ہو گئیں، وہ آپ کے آرام اور کھانے پینے کا خیال رکھتیں۔اس خدیجہ کے لئے اللہ تعالی نے جنت میں ان کے شفاف اور پر خلوص دل کی طرح موتیوں سے بنا ہوا ایک شیش محل تیار کروا رکھا ہے۔حضرت خدیجہ نے اس دنیا میں حضور علی میم کے گھر کو پر سکون اور جنت نظیر بنادیا تھا، اس کی جزا کے طور پر اللہ تعالی نے ان کو یہ پیغام اور خوشخبری پہنچائی کہ اللہ تعالی جنت میں اسی طرح کے پر سکون گھر کی ان کو خوش خبری دیتا ہے کہ جس طرح انہوں نے حضور علی یتیم کے آرام و غیرہ کا خیال رکھا ہے آپ کو بھی اس ابدی گھر میں کوئی تھکاوٹ نہ پہنچے گی۔الغرض حضرت خدیجہ آغاز سے ہی آنحضرت ام کی ساتھی اور مشکلات و مصائب میں آپ کی سا جبھی بن گئیں اور آپ کی تنہائی کی عبادات اور اعتکاف میں ان کی خدمات اور تعاون جاری رہا۔آنحضرت پر وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بھی حضرت خدیجہ نے جس طرح آنحضرت طی تم کی ڈھارس بندھائی وہ انہیں کا حصہ تھا۔غارِ حرا میں قرآنی وحی کا عجیب تجربہ حضور علی نیم کے ساتھ پہلی دفعہ گزرا۔آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا : پڑھ ! فرمایا: میں تو پڑھنے والا نہیں۔آپ نے فرمایا: اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے اس قدر بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھ۔میں نے کہا: میں تو پڑھنے والا نہیں تو اس نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری دفعہ بھینچا اور میری طاقت جواب دے گئی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ۔میں نے کہا : میں تو پڑھنے والا نہیں۔تو اس نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری دفعہ بھینچا یہاں تک کہ میری طاقت جواب دے