اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 33
ازواج النبی 33 حضرت خدیجہ رض پڑنے والی تھی اس میں حضرت خدیجہ جیسی بااثر اور پختہ عمر والی خاتون نے آپ کا قدم قدم پر معاون و مددگار اور ڈھارس بننا تھا۔حضرت خدیجہ شادی کے بعد رسول اللہ لی لی ایم کے ساتھ کم و بیش قریباً چوبیس 24 برس رہیں۔ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یا تم اپنی تردید و تکذیب کے بارہ میں کوئی بھی بات سن کر جب پریشان ہوتے تو حضرت خدیجہ تسلی و تشفی دلا کر اسے دور کرتیں۔آپ کے غم کا بوجھ ہلکا کر تیں اور آپ کی تصدیق کر کے آپ کی مشکلات آسان کرتیں۔17 18 الغرض یہ شادی خالصتاً اعلیٰ مقاصد اور اخلاق فاضلہ کی بناء پر قرار پائی اور یہی اس کی کامیابی کا اصل راز تھا۔حضرت خدیجہ نے آنحضرت می نم کو پیغام شادی کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے آپ کے حسن خلق اور سچائی کی وجہ سے آپ سے رغبت ہے۔محبت و اعتماد کا یہ تعلق شادی کے بعد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔حضرت خدیجہ نے آپ کو ہر قسم کی مالی فکروں سے آزاد کر دیا، وہ آپ کے اشارے پر جان قربان کرنے والی تھیں۔چنانچہ رسول اللہ صلی علی ایم نے ایک موقع پر فرمایا " " حضرت خدیجہ نے اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب باقی لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ملی۔آنحضرت علی یا تم نے حضرت خدیجہ کے غلام زید بن حارثہ کی خدمات کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ کر ان کو سراہا تو حضرت خدیجہ نے آنحضرت مسلم کی یہ رغبت دیکھ کر انہیں آپ کی ملکیت میں ہی دے دیا اور 20 19 رض حضور ملی یا تم نے ان کو آزاد کر دیا۔محبت الہی اور عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت و شغف دیکھ کر حضرت خدیجہ ہمیشہ آپ کی ممد و معاون ہوئیں۔آنحضرت می ایلیا کی تخلیہ اور عبادت کی خاطر غار حراء میں جاکر اعتکاف فرماتے۔حضرت رض خدیجہ آپ کے لئے زادراہ کا اہتمام فرماتیں۔ایسے ہی ایک مرتبہ جب حضرت خدیجہ کھانا لے کر آنحضور میں نیم کے پاس آرہی تھیں۔حضرت جبریل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یارسول اللہ ! یہ حضرت خدیجہ ایک برتن لئے آ رہی ہے جس میں سالن کھانا یا پینے کی کوئی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو انہیں اللہ تعالی کی طرف سے اور