اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 334
اولاد النبی 334 حضرت امام <mark>حسین</mark> 26 نے <mark>ان</mark> کے سر کو بوسہ دیا۔جب حضرت حسنؓ تشریف فرما ہوئے تو حضرت <mark>حسین</mark> نے کہا کہ صلح میں پہل کرنے میں مجھے اس بات نے روکا کہ آپ شرف وفضیلت میں مجھ سے بڑھ کر ہیں میں نے نا پسند کیا کہ میں سبقت کر کے آپ کے مقام اور احترام میں کوئی دخل دوں۔علمی وروح<mark>ان</mark>ی مقام:۔حضرت ابن زبیر بی<mark>ان</mark> کرتے تھے کہ <mark>ان</mark>ہوں نے <mark>حسین</mark> بن علی سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک قیدی آزاد کرنا کس کے ذمہ ہے ؟ <mark>ان</mark>ہوں نے جواب دیا کہ <mark>ان</mark> لوگوں کے ذمہ جن کے ساتھ وہ ہو کر لڑے اور جن کی مدد کی ہو۔پھر پوچھا کہ نومولود کا خرچہ کب سے واجب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ پیدائش کے بعد جب وہ روتا ہے اور آواز نکالتا ہے تو اس کا خرچہ اور اس کا رزق ضروری ہو جاتی ہے۔پھر آپ سے کھڑے ہو کر پ<mark>ان</mark>ی پینے کے بارہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے دودھ منگوایا اور کھڑے ہو کر پی لیا۔آپ بکری بھون کر لٹکا دیتے تھے اور اس کے ساتھ ہماری مہم<mark>ان</mark> نوازی کرتے تھے۔حضرت امام <mark>حسین</mark> مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ابو عون سے روایت ہے کہ جب حضرت <mark>حسین</mark> مدینہ سے مکہ ج<mark>ان</mark>ے لگے تو ابن مطیع کے پاس سے گزرے وہ اپنے لیے کنواں کھود رہا تھا۔اس نے عرض کیا کہ ہم نے یہ کنواں کھودا ہے لیکن اب اس سے پ<mark>ان</mark>ی نکلنا بند ہو گیا ہے۔آپ اللہ تعالی سے ہمارے لیے برکت کی دعا کریں۔آپ نے فرمایا کہ اس میں سے پ<mark>ان</mark>ی لے آؤ۔وہ ڈول میں پ<mark>ان</mark>ی لے آیا آپ نے اس پ<mark>ان</mark>ی سے کلی کی اور کنویں میں ڈال دیا۔وہ کنواں میٹھا اور وافر پ<mark>ان</mark>ی دینے لگا۔27 مقام و فضائل حضرت امام <mark>حسین</mark> آپ کو علم و فضل اور فن خطابت میں کمال حاصل تھا۔آپ راتوں کو عبادت سے زندہ کرتے اور کثرت سے صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی یا تم نے حسن و <mark>حسین</mark> کے بارہ میں فرمایا کہ یہ دونوں میرے لئے دنیا کی عمدہ خوشبو ہیں۔29 آنحضور ملی یم دعا کرتے تھے "اے اللہ میں <mark>ان</mark> سے <mark>محبت</mark> کرتا ہوں تو بھی <mark>ان</mark> سے <mark>محبت</mark> کر " آنحضور طی علی کریم نے فرمایا جس نے <mark>ان</mark> دونوں سے <mark>محبت</mark> کی اس نے مجھ سے <mark>محبت</mark> کیاور جس نے <mark>ان</mark> سے بغض <mark>رکھا</mark> اس نے مجھ سے بغض <mark>رکھا</mark>" کرے" پھر فرمایا <mark>حسین</mark> میرا اور میں <mark>حسین</mark> کا ہوں جو <mark>حسین</mark> سے <mark>محبت</mark> کرے اللہ اس سے <mark>محبت</mark>