اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 333
اولاد النبی 333 حضرت امام حسین ور نہ ظاہری تکالیف کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسین بھی شہید کر دیئے گئے تھے۔مگر وہ ناکام نہیں ہوئے بلکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور جس اصول کی خاطر انہوں نے قربانی پیش کی تھی وہ اصول آج بھی قائم ہے اور قیامت تک رہے گا " اخلاق فاضلہ 2111 22 عبادات:۔حضرت امام حسین عالم و فاضل انسان تھے۔عبادات سے خاص شغف تھا۔نمازوں کا اہتمام فرماتے۔کثرت سے روزے رکھتے۔آپ نے پچھیں حج پیدل چل کر کیے۔عراق جانے سے پہلے جتنا عرصہ مدینہ میں رہے۔پیدل حج کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔خودداری:۔حضرت عبد اللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین امیر معاویہ کے پاس تشریف لائے۔انہوں نے ان دونوں کو اسی وقت دولا کھ در ہم پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ آپ دونوں یہ قبول کریں اور میں ہند زوجہ ابو سفیان کا بیٹا ہوں جس نے اتنی رقم نہ پہلے کسی کو دی اور نہ ہی میرے بعد کوئی کسی کو دے گا۔حضرت امام حسن تو خاموش رہے لیکن حضرت امام حسین کہنے لگے خدا کی قسم ! واقعی ایسی عطا کے لیے آپ کو اس کے بعد ہم سے زیادہ صاحب شرف و فضیلت پھر کوئی نہیں ملے گا۔23 24 انکساری و مهمان نوازی:۔ایک دفعہ حضرت حسین کچھ مساکین کے پاس سے گزرے جو مسجد نبوی کے قریب صفہ میں کھانا کھا رہے تھے انہوں نے آپ کو بھی کھانے کی دعوت دی۔آپ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرما یا یقینا اللہ متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔آپ نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔پھر فرمایا کہ میں نے تو تمہاری دعوت قبول کر لی اور اب تم بھی میری دعوت قبول کرو۔آپ ان سب کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی رباب سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ نکال کر ان کو پیش کر دو۔حضرت حسن نے حضرت حسینؓ کو ایک خط میں شعراء کو انعام واکرام دینے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا جس پر حضرت حسین نے جواباً خط میں لکھا کہ بہترین مال وہ ہے جو عزت کی حفاظت کرے۔بڑوں کا احترام:۔ابو حسن مدائنی بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی جس پر انہوں نے باہم بات کرنا چھوڑ دی۔آنحضور ملی کلیم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔اس وجہ سے تین دن گزرنے کے بعد حضرت حسنؓ خود ہی اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین کے پاس آئے۔حضرت حسین بیٹھے ہوئے تھے آپ 25