اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 324 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 324

اولاد النبی 324 حضرت امام حسین تاریخ دمشق کو تیسرے درجہ میں ہونے کی وجہ سے ثقہ اور معتبر نہیں سمجھا جاتا۔لیکن ان روایات کی تائید مستدرک حاکم اور مسند احمد سے بھی ہوتی ہے۔اگر ان کو من وعن اور لفظا لفظاً قبول نہ بھی کیا جائے تو ان روایات سے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت ایک تقدیر الٹی تھی جس کی خبر بذریعہ کشف اللہ تعالی نے پیشگی طور پر آنحضرت ا نیم کو دے دی تھی اور یہ بات بعید از قیاس نہیں۔شہادت امام حسین کا تاریخی پس منظر بہر حال جہاں شہادت امام حسینؓ اسلامی تاریخ کا ایک دلخراش سانحہ ہے وہاں رسول الله علی کریم کی ایک پیشگوئی بھی اس کے ذریعہ پوری ہوئی۔جس کا تاریخی پس منظر یوں ہے کہ حضرت امام حسنؓ کی شہادت کے بعد 56 ہجری میں امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کر دیا جس پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے انتشار اور تفرقہ سے بچنے کے لئے یزید کی بیعت کر لی۔حضرت عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن زبیر اور امام حسینؓ نے بیعت نہ کی۔ان کی رائے تھی کہ یزید اپنے فسق و فجور کی حالت میں خلیفۃ المسلمین بننے کا اہل نہیں۔امیر معاویہ کے حامیوں کا یہ موقف تھا کہ یزید کی ولی عہدی کے اعلان اور بیعت کے بعد اب مخالفت جائز نہیں۔تاہم امیر معاویہ کی زندگی میں اس بیعت کے لیے کوئی اصرار نہیں ہوا۔اہل کوفہ کی دعوت 60 ہجری میں حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہی امیر مدینہ کو ہدایت کی کہ ان تینوں حضرات سے فوری بیعت لی جائے۔جس پر امام حسین اور عبد اللہ بن زبیر مدینہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے۔جہاں حضرت امام حسین اہل کوفہ کے کثرت سے بیعت کے خط آئے جن میں آپ کو کوفہ آنے کی دعوت تھی۔انہوں نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کو فہ بھجوایا۔ان کی اس اطلاع پر کہ اٹھارہ ہزار اہل کو فہ آپ کی بیعت پر متفق ہیں آپ نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس سمیت کئی بزرگوں نے اس فیصلہ کی مخالفت کی تو حضرت امام حسین نے فرمایا کہ وہ استخارہ کے بعد کوئی رائے قائم کریں گے پھر الہی تقدیر کے مطابق بالآخر انہوں نے مع اہل و عیال کوفہ جانے کا عزم کر لیا۔مسلم بن عقیل کی شہادت ย ادھر یزید کو علم ہوا کہ مسلم بن عقیل امام حسین کے لئے اہل کوفہ کی بیعت لے چکے ہیں تو اس نے بصرہ کے حاکم ابن زیاد کو کوفہ بھجوادیا، جس نے وہاں حکومت کا نظم و نسق سنبھال لیا اسی نے اہل کوفہ کو روپے کا لالچ