اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 322
اولاد النبی 322 حضرت امام حسین پر پڑی تو منبر سے اتر آئے اور انہیں اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔اکثر آپ ان بچوں کے لئے دعائیں کرتے۔"اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر " حضرت یعلی عامری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی نیز فرمایا " جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔حسین میرا اور میں حسین کا ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے " دور در خلفائے راشدین یوں 7 برس رسول اللہ علی ایم کی وفات تک حضرت حسین نے اپنے مقدس نانا کے آغوش محبت میں تعلیم و تربیت کی سعادت پائی اور ان کی دعاؤں کا فیض پایا۔خلفائے راشدین حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی رسول اللہ الکریم کی قرابت کی وجہ سے حضرت حسینؓ کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔حضرت عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں ان کی محصوری کے وقت حضرت حسین نوجوان تھے انہوں نے اپنے بزرگ والد حضرت علی کے حکم پر خلیفہ وقت کی حفاظت کے لئے پہرہ دیا اور جب تک ممکن ہو سکا باغیوں کو حملے سے روکے رکھا۔حضرت امام حسین اپنے والد کے زمانہ خلافت میں ان کے معاون و مددگار رہے۔آپ نے اپنے والد اور خلیفہ راشد حضرت علی کی شہادت کے بعد اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسنؓ کی بیعت کی اور امیر معاویہ سے ان کی مصالحت میں آپ بھی شریک ہوئے۔جس میں خود امیر معاویہ کی پیشکش کے مطابق طے پایا تھا کہ ان کی وفات کے بعد امام حسن ان کے جانشین ہوں گے۔مگر حضرت حسن کی اچانک شہادت کے باعث اس پر عمل درآمد نہ ہوا۔امیر معاویہ کے عہد میں حضرت امام حسین نے قسطنطنیہ کی مشہور مہم میں حصہ لیا۔حضرت انس کے مطابق رسول اللہ صلی علیم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے حسن اور حسین 5 تھے۔0 رسول الله علی کریم نے فرمایا کہ حسن اور حسین نوجوانان اہل جنت کے سردار وں میں سے ہیں۔ان سے جنگ مجھ سے جنگ اور ان سے صلح مجھ سے صلح ہے۔شہادت امام حسین کے بارہ میں رسول اللہ علی ایم کی پیشگوئی حضرت امام حسینؓ کی شہادت بھی السی تقدیروں میں سے ایک تقدیر مبرم معلوم ہوتی ہے جیسا کہ بعض روایات سے ظاہر ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتہ نے نبی کریم طی نیم کے پاس آنے