اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 316
حضرت امام حسن 316 اولاد النبی ساتھ چمٹالیا اور اسے اپنے منہ کے ساتھ لگائے سونگھنے لگے۔اس موقع پر ایک انصاری نے عرض کیا میر ابیٹا بڑا ہو چکا ہے میں نے آج تک اسے نہیں چوما۔رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تم سے رحمت چھین لی ہو تو اس میں میرا کیا قصور؟ اس روایت سے لقب ریحانہ النبی کی وجہ تسمیہ بھی ظاہر ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ علی می کنیم تشریف لائے اور حضرت حسن کو گردن پر اٹھار کھا تھا۔ایک شخص نے دیکھ کر کہا کہ واہ رے بچے! یہ کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تم سوار ہو۔رسول اللہ لی تم نے سن کر فرمایا اور سوار بھی کتنا اچھا ہے۔نیز آپ نے فرمایا "حسین میرا اور میں حسین کا ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے' حضرت حسن نے بھی شہادت کا عظیم مر تبہ پایا۔حضرت بانی جماعت احمد یہ حضرت امام حسنؓ کے بلند مقام اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ہوں " 76 " میں حضرت علی اور ان کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جو ان کا دشمن ہے میں اس کا دشمن 78 11 حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمۃ الہدیٰ تھے اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آل تھے " اللهمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ *** ***