اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 14 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 14

ازواج النبی 14 تعددازدواج ہو گیا جیسا کہ اس آیت شریف سے ظاہر ہوا۔1966 اسلامی تعلیم سے تعددازدواج کی حسب ذیل سات عمومی اغراض کا پتہ چلتا ہے۔(1) جسمانی اور روحانی بیماریوں سے حفاظت (2) بقائے نسل (3) رفاقت حیات اور تسکین قلب (4) محبت ورحمت کے تعلقات کی توسیع (5) انتظام بیتامی (6) انتظام بیوگان (7) ترقی نسل۔ان وجوہات میں سے بطور خاص حفاظت بیتامی ، انتظام بیوگان اور تکثیر نسل اہم ہیں۔تا ہم آنحضرت کے مخصوص حالات کے ماتحت آپ کی شادیوں کی خاص وجوہات میں اول تو تعد داز واج کی صورت میں آپ کا عادلانہ ذاتی نمونہ قائم کرنا تھا۔جو امت مسلمہ کیلئے بالخصوص لائق تقلید ہے۔دوسرے اس اسوہ حسنہ سے خاص طور پر بعض جاہلانہ رسوم اور غلط عقائد کی عملی تردید بھی مقصود تھی۔تیسرے بعض مناسب عورتوں کو آپ کی تربیت میں رکھ کر ان کے ذریعہ اسلامی شریعت کے اس حصہ کا استحکام جو مستورات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت بڑی غرض تھی۔یہ وہ اہم اغراض ہیں جن میں غالب طور پر فرائض نبوت کی ادائیگی مد نظر تھی جن کا کسی قدر تفصیل سے ذکر مناسب ہے۔رسوم جاہلیت کا خاتمہ بحیثیت ایک مذہبی رہنما اور لیڈر رسول کریم میں یا یتیم کی شادیوں کی ایک اور بڑی غرض رسوم جاہلیت کا خاتمہ بھی تھا۔چنانچہ حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کے ذریعے متبنی کی بیوی سے نکاح نہ کرنے کی قبیح رسم کا خاتمہ ہوا۔جس کے بعد رسول اللہ صلی علی کریم نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے الہی حکم کے مطابق شادی 20 کر کے یہ نمونہ بھی قائم فرمایا کہ کسی طلاق شدہ عورت کے ساتھ شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت 21 باتی اسلام کی تعدد ازدواج سے ایک اور بڑی غرض مسلمان خواتین کی تربیت تھی۔مکی دور میں آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ نے یہ ذمہ داری ادا کی تو مدنی دور میں نوبت بنوبت دیگر ازواج نے۔حضرت عائشہ سے تو شادی کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت تھا۔اسی لئے آپ نے نصف علم حضرت عائشہ سے سیکھنے کی ہدایت فرمائی۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ اکثر آپ سے اور دیگر از واج سے بھی مسائل و دینی امور کے متعلق آگاہی طلب کرتے تھے۔اور وہ پردہ کی رعایت سے انہیں تعلیم دیتی تھیں۔حضرت ام سلمہ کی 22