اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 283 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 283

اولاد النبی 283 حضرت فاطمہ بنت محمد 15 وقت ہو گیا ہے " پھر آپ سورہ احزاب کی آیت : 33 پڑھتے کہ "اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے " آنحضور ٹیم کو اپنی اولاد کی نماز تہجد کی ادائیگی کی بھی فکر لاحق ہوتی تھی۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے اور فاطمہ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ وغیرہ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔حضرت علیؓ کہتے ہیں میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور کہ بیٹھا " خدا کی قسم ! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اُٹھا دے "رسول کریم طی می کنیم و واپس لوٹے۔آپ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے پہلے میرا ہی فقرہ دہرایا کہ "ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے" پھر یہ آیت تلاوت کی "وَكَانَ الْإِنْسَابُ اَكْثَرَ شَيْ ءٍ جَدَلًا" کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔16 حضرت فاطمہ کی مالی قربانی حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں۔نبی کریم اپنی لاٹھی سے ان کو ہلاتے جاتے تھے اور فرمانے لگے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے؟ اس نے حضرت فاطمہ کے پاس آکر اس بات کا شکوہ کیا۔حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم ملی یتیم کے ساتھ روانہ ہو گیا، نبی کریم گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اجازت لیتے وقت آپ کا یہی معمول تھا۔اس وقت حضرت فاطمہ کے ہاتھ میں سونے کی ایک لڑی تھی اور وہ اس خاتون سے مخاطب تھیں کہ یہ سونے کی لڑی دیکھو جو مجھے ابو الحسن نے تحفہ دیا ہے، دریں اثناء نبی کریم ملی نہیں گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا، اے فاطمہ ! بات انصاف کی ہونی چاہیئے۔کل کلاں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (م) کی صاحبزادی فاطمہ کے ہاتھ میں آگ کی لڑی ہے۔پھر آپ نے انہیں ملامت کی اور وہاں رُکے بغیر ہی واپس تشریف لے گئے۔تب حضرت فاطمہ نے وہ سونے کی لڑی فوراً فروخت کر کے اس کی قیمت سے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد