اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 278
اولاد النبی 278 حضرت فاطمہ بنت محمد رکھ دے۔ان میں سے ایک بد بخت عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اونٹنی کی گند بھری بچہ دانی اٹھالا یا اور دیکھتارہا جو نہی نبی کریم سجدہ میں گئے اس نے غلاظت بھرا وہ بوجھ آپ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی رسول خدای نیم کی کچھ مدد نہ کر سکتا تھا۔بس کف افسوس ملتا رہ گیا کہ اے کاش ان دشمنان رسول کے مقابل پر مجھے اتنی توفیق ہوتی کہ آپ کی تکلیف دور کر سکتا۔اُدھر ان مشرک سرداروں کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ میں تم کو اذیت میں دیکھ کر استہزا کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی حالت میں پڑے تھے ، بوجھ کی وجہ سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور آپ کی پشت سے وہ غلاظت کا بوجھ ہٹایا۔تب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا۔عبادت الہی سے روکنے اور استہزا کرنے والے ان جانی دشمنوں کے حق میں رسول الله علیم نے یہ فریاد کی " اللهم علَيْكَ بِقُرَيْشٍ " اے اللہ ! ان قریش کو تو خود سنبھال۔یہ دعا بھی قبول ہوئی اور خدائی گرفت ان دشمنان رسول پر بدر کے دن آئی اور رسول اللہ صلی لی تم نے ان کا یہ عبرت ناک انجام بچشم خود دیکھا کہ میدان بدر میں ان کی لاشیں اس حال میں پڑی تھیں کہ تمازت آفتاب سے ان کے حلیے بگڑ چکے تھے۔0 3 اپنے شفیق چا ابو طالب کی وفات کے بعد تو رسول اللہ علی ایم کی ایزاد ہی کا سلسلہ بہت تیز ہو گیا۔یہاں تک کہ آپ کی ذات پر حملے ہونے لگے۔ایک مرتبہ کسی بد بخت نے آپ کے سر پر خاک ڈال دی۔رسول کریم می کنم گھر تشریف لائے۔آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ مٹی بھر اسر دھوتی اور ساتھ روتی جاتی تھیں۔رسول اللہ علی یار تم انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا بیٹی ! رونا نہیں۔اللہ تعالی تمہارے باپ کا محافظ ہے۔پھر فرمایا قریش نے میرے ساتھ ابو طالب کی وفات کے بعد بد سلو کی کی حد کر دی ہے۔حضرت فاطمہ کا اعلان نکاح 2 سنہ ہجری میں حضرت علی نے رسول اللہ صلی یا یک کم کی خدمت میں حضرت فاطمہ سے عقد کی درخواست کی جسے حضور نے بخوشی قبول فرمایا۔اس وقت حضرت علیؓ نے ایک اونٹنی فروخت کی جس کی مالیت 480 درہم تھی۔نبی کریم نے ہدایت فرمائی کہ اس رقم کا ایک حصہ خوشبو وغیرہ کے لئے، دوسرا حصّہ کپڑوں کے لئے اور تیسر احضہ دیگر اخراجات میں صرف کیا جائے۔چنانچہ جب نکاح کا وقت آیا تو حضور طی یا کنیم