اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 274
حضرت ام کلثوم بنت محمد 274 اولاد النبی فرمانے لگے کہ مردے کیلئے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت تو نہیں لیکن اس سے زندہ لوگوں کے دل کو ایک 16 اطمینان ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم حضور می یم کی بیٹی حضرت ام کلثوم کے جنازہ میں حاضر تھے۔حضور طی می کنم قبر کے پاس بیٹھے آنسو بہا رہے تھے۔حضور کے ارشاد پر حضرت ابو طلحہ ان کی قبر میں اترے۔0 حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان کا رسول اللہ سلم کے سامنے ذکر ہوا تو حضور طی کنم نے فرمایا کہ وہ نور ہے۔پوچھا گیا کہ نور سے کیا مراد ہے؟ فرمایا یہ نور آسمانوں، جنتوں اور آفتاب کانور ہے۔اور یہ نور خوبصورت حوروں سے زیادہ تابناک ہے، اور میں نے اپنی دو بیٹیاں اس نور کے عقد میں دی ہیں۔اسی لئے اللہ نے ان کا نام ملا اعلیٰ میں ذوالنور رکھا ہے اور جنت میں ذوالنورین۔پس جو کوئی حضرت عثمان کو برا بھلا کہے گا اس نے مجھے برا بھلا کہا۔0 حضرت ام کلثوم کی وفات پر حضرت عثمان کے اخلاص و وفا کو دیکھتے ہوئے آنحضرت میں ہم نے فرمایا کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہو تیں تو میں یکے بعد دیگرے تم سے بیاہ دیتا۔آپ کی تدفین مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہیں آپ کا مرقد ہے۔جو غالب قیاس کے مطابق جنت البقیع 18 19 کے قبرستان میں ہے۔اللهمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ***: ****