اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 267
اولاد النبی 267 حضرت رقیہ بنت محمد تھے۔انہوں نے بچپن رسول اللہ علیم کے گھرانے کے فرد کے طور پر گزارا اور آپ کے فیض صحبت میں تربیت پائی۔وہ مدینہ کے اسی ابتدائی زمانہ کے اپنے بچپن کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نے میرے ہاتھ ایک طشت دے کر حضرت عثمان کی طرف بھیجا جس میں کچھ گوشت تھا۔جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ حضرت رقیہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔میں نے ان دونوں جیسا خوبصورت جوڑا اور کوئی نہیں دیکھا۔کبھی میں حضرت عثمان کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی حضرت رقیہ کی طرف۔جب میں حضور علی ایم کے پاس واپس آیا تو حضور علی لیا کہ تم نے فرمایا ، ان سے مل آئے ہو ؟ میں نے کہا، جی۔فرمایا، کیا تو نے ان سے زیادہ حسین جو ڑ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا، نہیں! پھر بتایا کہ یارسول اللہ لی عالم میں کبھی حضرت رقیہ کو دیکھتا تھا اور کبھی حضرت عثمان کو۔8 راہ مولیٰ میں تکالیف پر صبر ہجرت حبشہ میں حضرت رقیہ کو جو مصائب برداشت کرنے پڑے اس میں ایک بڑا صدمہ یہ پیش آیا کہ آپ کا ایک بچہ اسقاط حمل سے ضائع ہو گیا۔اس کے بعد حضرت رقیہ کے ایک اور صاحبزادے عبداللہ پیدا ہوئے لیکن کم عمری میں فوت ہو گئے۔اسی وجہ سے حضرت عثمان ابو عبد اللہ کہلاتے تھے۔ان کی عمر دو سال تھی جب ایک مرغ نے ان کے چہرے پر چونچ مار کر ان کا چہرہ زخمی کر دیا تھا اور اسی زخم کے بگڑ جانے سے ان کی وفات ہو گئی۔ان کا جنازہ رسول اللہ یا تم نے پڑھایا اور حضرت عثمان خود ان کی قبر میں اترے۔اس کے بعد حضرت رقیہ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔وفات 2 ہجری میں غزوہ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔ان کی تیمار داری کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو نہ صرف غزوہ بدر سے رخصت عطا فرمائی بلکہ اس مخلصانہ خدمت اور جنگ بدر میں ان کے مصمم ارادہ شرکت کے باعث اموالِ غنیمت سے انہیں حصہ بھی عطا فرمایا۔رسول کریم ما ابھی بدر کے محاذ پر ہی تھے کہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف بڑھ گئی اور انہوں نے اکیس 21 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ایک روایت کے مطابق جب قبر پر مٹی ڈالی جارہی تھی