اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 258
اولاد النبی 258 حضرت زینب بنت محمد اگلی رات ابو العاص حضرت زینب کو لے کر نکلے اور یا حج مقام پر انہیں حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ مدینہ روانہ کر کے واپس مکہ آگئے۔اس طرح انہوں نے رسول اللہ علیم سے کئے عہد کی پابندی کرتے ہوئے حضرت زینب کو خاموش حکمت عملی سے مدینہ بھجوانے کا انتظام رسول اللہ لی لی یتیم کی ہدایت کے مطابق کر دیا۔اور حضرت زینب اپنے مقدس والد آنحضرت نیم کے پاس مدینہ پہنچ گئیں۔آنحضر عمل ہم آپ کے بارہ میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ میری بیٹیوں میں سب سے افضل ہے کیونکہ اس کو میری وجہ سے بہت تکالیف پہنچی ہیں۔0 8 ابوالعاص کا قبول اسلام 6 ہجری میں ابو العاص اپنے اور قریش کے اموال لے کر تجارت کی غرض سے شام گئے ، آپ بہت امانتدار شخص تھے۔سفر تجارت سے واپسی پر رسول اللہ علی علی کریم کے بھیجے ہوئے ایک دستے سے ان کی مٹھ بھیڑ ہو گئی جس نے اس تجارتی قافلے کا سارا سامان چھین کر اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔یہ اسلامی دستہ جب مدینہ پہنچا تو دوسری طرف ابو العاص بھی اپنا مال واپس لینے کی امید اور درخواست لیکر رات کی تاریکی میں مدینہ پہنچے اور اپنی بیوی حضرت زینب کے پاس پہنچ کر پناہ کے طالب ہوئے۔حضرت زینب نے ان کو امان دیدی۔حضور صبح کی نماز کیلئے مسجد نبوی تشریف لائے تو زینب نے عورتوں کے چبوترہ سے بلند آواز میں کہا، اے لوگو ! میں نے ابو العاص کو پناہ دیدی ہے۔حضور نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا کیا تم نے بھی وہ سنا ہے جو میں نے سنا ہے؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اس معاملے کا مجھے بھی اس سے پہلے پتہ نہیں تھا۔اور میں نے تمہارے ساتھ ہی یہ آواز سنی ہے۔پھر فرمایا۔مسلمانوں کا سب سے کمزور فرد بھی کسی کو پناہ دینے کا مجاز ہے۔اس کے بعد حضور واپس گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیٹی سے فرمایا اے میری بیٹی ! ابو العاص کے ٹھہرانے کا اچھا انتظام کرو لیکن وہ ہر گز تمہاری خلوت میں نہ آئے کیونکہ تم بحیثیت مسلمان اس کیلئے اب حلال نہیں۔بیشک ہجرت سے قبل تک ابوالعاص نے (نہ صرف اسلام کی مخالفت نہ کی بلکہ ) اپنی اہلیہ زینب سے مکہ میں حسن سلوک کیا اور ان کو اپنے دین پر قائم رہنے دیا۔لیکن ہجرتِ مدینہ ان کے درمیان تفریق کا ذریعہ بن گئی۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ 9