اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 256 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 256

اولاد النبی 256 حضرت زینب بنت محمد طلاق دیدی لیکن ابو العاص نے جرات و دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفا کا دامن نہ چھوڑا اور حضور کی بیٹی زینب کو طلاق دینے سے انکار کر دیا۔قریش نے ابو العاص کو لالچ دی کہ آپ اگر محمد سلیم کی بیٹی کو چھوڑ دیں تو جو لڑ کی پسند کرو گے ہم اس سے تمہاری شادی کر دیں گے۔لیکن اس کے باوجود نیک دل، جرأت مند اور وفا شعار ابو العاص نے زینب کو طلاق دینے سے انکار کر دیا۔رض حضرت زینب کی ہجرت مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے بعد تمام قبائل عرب آپ کے دشمن بن چکے تھے۔حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ کو حضور میں تم نے اپنے پاس لانے کیلئے مدینہ سے حضرت زید بن حارثہ کی سر کردگی میں چند افراد کو مکہ بھجوایا جو حکمت عملی کے ساتھ نبی کریم امی کی دونوں صاحبزادیوں کو مدینہ لائے۔لیکن حضرت زینب اپنے خاوند ابو العاص کے پاس تھیں اور بچپن سے دین اسلام پر قائم تھیں۔شادی کے بعد ایک طرف حضرت زینب پر اپنے شوہر کی ذمہ داری بھی تھی دوسری طرف وہ اپنی حقیقی خالہ کے گھر بیاہی ہوئی تھیں جہاں بظاہر ان کے لئے کوئی خوف نہ تھا۔مگر رسول اللہ سلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں ان کا مسلسل دشمنانِ اسلام کے نرغے میں رہنا اب خطرہ سے خالی بھی نہ رہا تھا۔ان کے شوہر ابو العاص ابھی اپنے دین پر تھے ، جب حضرت زینب کی جان اور ایمان کی سلامتی کیلئے ہجرت ناگزیر ہوگئی تو پہلی دفعہ ناکامی کے بعد دوسری مرتبہ رسول اللہ علیم کے ارشاد اور حکمت عملی سے یہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔اس پہلی ہجرت کا واقعہ حضرت عائشہ یوں بیان کرتی ہیں کہ حضور ملی تم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کی بیٹی حضرت زینب قبیلہ کنانہ کے بعض لوگوں کے ساتھ یا ایک اور روایت کے مطابق ابو العاص کے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئیں۔مگریہ تدبیر کار گر نہ ہو سکی اور مخالفین کو پتہ چل گیا وہ تعاقب میں نکلے اور ہبار بن اسود حضرت زینب کے قریب پہنچ کر تیر چلانے لگا۔یہاں تک کے کہ حضرت زینب کو اونٹ سے گراد یا اور ان کا حمل ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگا۔کنانہ نے ترکش سے تیر نکالے اور کہا کہ اب اگر کوئی قریب آیا تو ان تیروں کا نشانہ ہو گا۔لوگ ایک طرف ہو گئے تو ابوسفیان سردارانِ قریش کے ساتھ آیا اور کہا کہ تیر روک لو ہم کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔کنانہ نے تیر ترکش میں ڈال لئے۔ابو سفیان نے کہا محمدعلی علی کریم کے ترک وطن سے حالات جہاں تک جاپہنچے ہیں تم کو معلوم ہیں اب اگر تم علانیہ ان کی لڑکی کو ہمارے قبضہ