اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 221
ازواج النبی 221 حضرت ماریہ رض حضرت مولانانور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول نے بھی حضرت ماریہ کے بارہ میں ایسی روایات کو ر ڈ کیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔" بعض مفسر لوگوں نے زینب کے بدلے میں ماریہ قبطیہ کا نام لیا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مفسروں کا قول حدیث کے مقابلے میں التفات کے قابل نہیں بلکہ محققین نے ماریہ کے وجود پر بھی انکار کیا ہے۔48 11 ہے۔بعض کتب میں یہ قصہ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے جو ابن اسحاق کے نزدیک "مدرج" (یعنی بعد کے راوی کی طرف سے اضافہ ہے ) اسی طرح بعض ایسی روایات حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ کی طرف بھی منسوب ہیں جو بزرگ علمائے فنِ حدیث کے نزدیک اجتہاد اور درایت کے لحاظ سے سند نہیں۔0 اسی طرح مختلف تفاسیر اور کتب تاریخ میں واقعہ شہد کی حضرت ماریہ سے متعلق روایت اندرونی طور پر ย 50 تضاد کا شکار ہے اور ایسے راویوں سے مروی ہے جن کی روایات قابل قبول نہیں۔مثلاً مستدرک حاکم کی اس روایت کے راوی محمد بن بکیر کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ بسا اوقات غلطی کھا جاتے تھے۔0 یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس روایت کے راویوں میں سے کسی نے بھی یہ واقعہ خود حضرت حفصہ یا آنحضور علم کی کسی اور زوجہ مطہرہ سے براہ راست بیان نہیں کیا جو اس واقعہ کی عینی شاہد تھیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ " بعض مفسرین نے اس آیت کی بہت گندی تفسیر کی ہے یعنی یہ کہ آپ نے حضرت ماریہ سے جو آپ کی لونڈی تھی صحبت کی اور پھر یہ بات ایک بیوی سے عہد لے کر بتادی۔اس نے دوسری بیویوں کو بتادیا اور یہ بات پھیل گئی۔یہ سب قصہ غلط ہے اور رسول کریم کو بد نام کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے " وفات رض 51 11 ام ابراہیم حضرت ماریہ کی وفات رسول اللہ علیم کی وفات کے پانچ سال بعد محرم 16ھ میں حضرت عمر بن الخطاب کے دور خلافت میں ہوئی۔52 حضرت عمرؓ نے ام المومنین حضرت ماریہ کے جنازہ میں شرکت کے لئے لوگوں کو خصوصیت سے اطلاع کروا کے اکٹھا کر وایا اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔53