اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 220
ازواج النبی 220 حضرت ماریہ رض کی طرح پردہ کا پابند کروایا گیانہ مجھے ام المومنین کا لقب ملا اور نہ ہی آپ نے میرے لئے ازواج کی طرح نفقہ یا وظیفہ مقرر کیا ہے۔اگر رسول اللہ علی ایم کی قبل از شادی مطلقہ ہونے کے لحاظ سے بھی مجھے ازواج میں شمار 44 کرتے ہوئے آئندہ نکاح سے روکنا ہے تو پھر اسی اصول پر میر ا نفقہ بھی مقرر ہونا چاہیے۔اور حضرت عمر نے انکی اس دلیل کو رڈ نہیں فرمایا تھا۔ایک اعتراض کا جواب حضرت ماریہ کے بارہ میں محدث امام حاکم ، مشہور مفسر جلال الدین سیوطی اور مؤرخ ابن سعد نے ایک ایسی کمزور روایت بیان کی ہے جسے بعض عیسائی پادریوں نے بنیاد بنا کر رسول کریم ای کمر پر اعتراض کیا ہے کہ آپ نے ان سے حضرت حفصہ کے گھر اور ان کی باری میں صحبت کی۔اور ان کے رد عمل پر رسول کریم نے اپنی سر یہ حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا اور اس کا ذکر کرنے سے منع کر دیا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ (التحريم:2) 0 45 اس روایت کا ایک راوی واقدی ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل اعتماد نہیں۔مزید برآں نسائی اور مستدرک کی اس روایت میں حضرت ماریہ کی بجائے کسی اور لونڈی کا ذکر ہے۔جس سے یہ اعتراض اور مشتبہ اور بے بنیاد ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری اور مسلم کی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی قابل رڈ ہے۔صحیحین کی روایت کے مطابق سورۃ التحریم آیت 2 کے شان نزول میں مذکور ہے کہ چند ازواج کے کہنے پر آپ نے ایک حلال چیز (شہد) کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔علامہ ابوسلیمان محمد بن محمد الخطابی البستی (متوفی 388ھ) نے تصریح کی ہے کہ بخاری مسلم کی حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ اس واقعہ تحریم کا تعلق واقعہ شہد سے تھا نہ کہ حضرت ماریہ سے۔جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔یہی بات علامہ الخازن ابوالحسن علی بن محمد ابراہیم بن عمرالشیعی (متوفی 741ھ) نے لکھی ہے کہ علماء کے نزدیک اس روایت کا تعلق 46 شہد کے واقعہ سے ہے۔نیز ان کے مطابق حضرت ماریہ کے متعلق یہ روایت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔47 رض