اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 219
ازواج النبی 219 حضرت ماریہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ فرمانا کہ حضرت ماریہ سے رسول اللہ لی لی ایم کا نکاح ثابت ہے۔اس کا ایک ثبوت ان کا حق مکاتبت طلب نہ کرنا اور دوسرا قرینہ پردہ ازواج ہے جیسا کہ حضرت صفیہ کے نکاح کے لئے بھی یہی قرینہ قویہ ہے۔-4۔چہارم :۔حضرت عائشہ کی وہ روایت جس میں مومسلم حضرت ماریہ قبطیہ کو شادی کے شروع دنوں میں کچھ زائد وقت دینے کا ذکر ہے۔اگر اسے اس تاویل کے ساتھ قبول کیا جائے کہ دیگر ازواج کی موجودگی میں ان کی باریوں کے اہتمام کے ساتھ یہ زائد وقت رسول اللہ علی یک تیم ح حسب منطوق سورہ احزاب آیت 52 اس نو مسلم بیوی کی تعلیم و تربیت پر صرف کرتے تھے۔تو یہ بھی حضرت ماریہ کے زوجہ رسول ہونے پر ایک قرینہ ہوگا، کیونکہ حرم رسول میں آجانے کے بعد ان کی تعلیم و تربیت کے تقاضے بڑھ گئے تھے۔اور پیش آمدہ حالات میں رسول اللہ صلی علی کریم سے بڑھ کر کوئی اور یہ احسن فریضہ انجام نہیں دے سکتا تھا۔5 پنجم : رسول الله علی کریم نے مضافات مدینہ کے اموال بنی نضیر میں اپنے جس باغ میں حضرت ماریہ کو ٹھہرایا، وہ بعد میں انہیں تحفہ عطا کر دیا تھا جہاں وہ سکونت ہوئیں۔اگرچہ اس باغ کے بارہ میں یہ تصریح موجود نہیں کہ وہ حق مہر میں تھا یا تحفہ۔تاہم زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ وہ حق مہر ہو گا کیونکہ لونڈی کی ملکیت میں ایسی قیمتی جائداد آجائے تو وہ حق مکاتبت استعمال کر کے خود آزاد ہو سکتی ہے۔اس لئے رسول اللہ علی الکریم نے یقیناً اپنی حرم کو یہ باغ بطور مہر عطافرمایا ہو گاور نہ مساوات کی خاطر دیگر بیویوں کو بھی ایسا باغ بطور تحفہ عطا فرماتے۔ย ย 42 6 ششم :۔رسول اللہ علیم کی وفات کے بعد حضرت ماریہ نے جن دو خلفاء کا زمانہ پایا ان کا سلوک بھی حضرت ماریہ سے ازواج مطہرات جیسا تھا۔وہ آپ کا خصوصی احترام کرتے اور آپ کیلئے باقاعدہ نفقہ کا انتظام فرماتے رہے جس طرح دیگر ازواج کے لئے فرماتے تھے۔رض اس کے مقابل پر حضرت عمرؓ نے عمرة بنت الجون کے لئے وظیفہ مقرر نہیں کیا تھا۔(ان کا دوسرا نام اسماء اور 43 امیمہ بھی آتا ہے اور جن کو رسول اللہ علیم نے شادی سے قبل ہی ان کے مطالبہ پر طلاق دے دی تھی۔) 0 اگرچہ حضرت عمرؓ نے سورہ احزاب کی آیت 54 کے حوالہ سے اس مطلقہ زوجہ رسول اللہ لی لی تم کو رسول اللہ کے بعد کہیں اور نکاح سے منع کیا تو اس خاتون نے جوابا یہ دلیل دی کہ مطلقہ ہونے کی وجہ سے نہ تو مجھے ازواج ย