اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 201
ازواج النبی 201 حضرت صفیہ "مسٹر میور (Muir) نے اعتراض کیا مگر وہ جانتا نہ تھا کہ ملک عرب میں دستور تھا کہ مفتوحہ ملک کے سردار کی بیٹی یا بیوی سے ملک میں امن و امان قائم کرنے اور اس ملک کے مقتدر لوگوں سے محبت پیدا کرنے کے لئے شادیاں کیا کرتے تھے۔تمام رعایا اور شاہی کنبہ والے مطمئن ہو جایا کرتے تھے کہ اب کوئی کھٹکا نہیں۔چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تمام یہود نے وہیں رہنا پسند کیا۔خلافت سے تعلق 43 11 44 حضرت صفیہ کا جو تعلق خلفائے راشدین کے ساتھ اطاعت اور محبت کا تھا اس کا ایک اظہار اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے جب حضرت عثمان کے دور خلافت میں ان کا محاصرہ کیا گیا حضرت صفیہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں حضرت عثمان کی کچھ مدد کرنا چاہتی ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنی سواری تیار کرائی اور حضرت عثمان کے ساتھ ملاقات کے لئے تشریف لے گئیں۔راستے میں باغی فوجوں کے سردار اشتر نے آپ کو روک لیا۔آپ کی سواری کو مارنا چاہا اور بے ادبی کرنی چاہی۔آپ نے فرمایا "میری سواری کو واپس لے چلو، میں یہ بھی پسند نہیں کرتی کہ زوجہ رسول کے لئے یوں رسوائی کے سامان پیدا ہوں۔" اس کے باوجود حضرت صفیہ نے حضرت عثمان کی مدد کا ایک اور انتظام کیا۔ان کا گھر حضرت عثمان کے گھر کے قریب تھا، آپ نے ایک لکڑی اپنے اور ان کے گھر کے در میان بطور پل کے رکھ دی اور ایک ایسار ابطہ بحال کر لیا جس کے ذریعے محاصرہ کے دوران حضرت عثمان کے لئے کھانے پینے کی ضروری چیزیں مہیا فرماتی رہیں۔حضرت صفیہ کو خدا تعالی نے غیر معمولی حلم عطا کیا تھا۔آخر ایک سردار کی بیٹی اور اب سردارِ دو جہاں کی زوجہ مطہرہ تھیں۔ایک دفعہ ان کی لونڈی نے حضرت عمرؓ کے زمانے میں ان کی یہ شکایت کر دی کہ وہ جمعہ کی بجائے سبت کے دن یا ہفتہ کو بہت پسند کرتی ہیں۔اور اس میں وہ یہودیوں سے حسن سلوک کرتی اور صدقہ وغیرہ دیتی ہیں۔حضرت عمر کی طبیعت بہت ہی عادلانہ تھی آپ نے خود ہی حضرت صفیہ سے اس بارہ میں پوچھ لیا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ حضرت صفیہ نے جواب دیا کہ اللہ تعالی نے جب مجھے جمعہ کا بابرکت دن عطا کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اس کی بجائے میں کسی اور دن کو محبوب رکھوں۔باقی یہودیوں سے میرے رحمی رشتے ہیں بعض رشتے دار ایسے ہیں جو ا بھی مسلمان نہیں ہوئے میں ان کے حق کے مطابق ان سے صلہ رحمی اور احسان کا سلوک کرتی ہوں۔حضرت عمرؓ کے لئے یہ وضاحت کافی تھی۔بعد میں حضرت صفیہ نے اس