اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 197 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 197

ازواج النبی 197 حضرت صفیہ طنز یہ اشارہ کیا۔آنحضرت مالی کیم حضرت صفیہ کے قلب صافی کو جانتے تھے۔آپ نے فرمایا "خدا کی قسم ! یہ اپنی بات میں سچی ہے گویا صدق دل سے مجھے چاہتی ہے " ، 3911 یہ واقعہ رسول اللہ صلی ی ی یتیم کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی سچائی کا عظیم الشان گواہ ہے۔یہودی گھرانے میں پرورش پانے والی ایک لڑکی جس کے باپ نے اسلام سے مذہبی عداوت کی بناء پر رسول اللہ میم کو آپ کی نشانیوں سے سچار سول جان لینے کے بعد بھی اپنی سیادت و ریاست قائم رکھنے کے لئے ذاتی مخالفت کا فیصلہ کیا۔اور آپ کا جانی دشمن بن کر عمر بھر آپ کے خلاف برسر پیکار رہا۔جنگ خندق میں کفار قریش کی مدد کی اور آپ کے خلاف اعلان جنگ کر کے عہد شکنی کے مر تکب ہوئے جس کے باعث مدینہ سے نکالا گیا تو خیبر میں جاکر اسلام کے خلاف مضبوط اڈے قائم کئے۔بالآخر جب خیبر کے میدانوں میں اسکا اور اسکی قوم کی قسمت کا فیصلہ ہوا تو حضرت صفیہ کا نہ صرف والد بلکہ شوہر اور کئی عزیز اس جنگ میں کام آئے اور خود انکے بقول رسول اللہ علیم کا وجود انکے لئے سب سے زیادہ قابل نفرین تھا۔مگر رسول اللہ صلی یا یتیم کے عقد میں آنے کے بعد انکی کا یا کیسی پلٹی کہ اپنی جان رسول اللہ لی تم پر چھڑ کنے لگیں۔اور صدق دل سے آپ پر فریفتہ ہو گئیں اور خود ان کے بیان کے مطابق رسول اللہ لی ی ی ی یتیم سے زیادہ انہیں کوئی محبوب نہ رہا اور خدا کے رسول نے بھی گواہی دی کہ وہ بلاشبہ خلوص دل سے آپ پر قربان ہے۔دشمن قوم کی بیٹی کی یہ گواہی جس نے قریب سے رسول اللہ علیم کے اخلاق کا مشاہدہ کیا آپ کے اخلاق فاضلہ اور سچائی کو خوب ظاہر کرتی ہے۔یہی وہ راز تھا جس کی بناء پر رسول اللہ علیم نے ان کا نام زینب سے بدل کر صفیہ رکھا۔یعنی انہوں نے اپنا دل وسینہ رسول ال لی لی نام اور اسلام کے لئے خالص کر لیا تھا۔اور آپ کی باصفاسا تھی بن گئیں۔سبحان اللہ ! e حضرت صفیہ کی کایا پلٹنے پر مستشرقین کی حیرانی حضرت صفیہ کے اندر پیدا ہونے والے اس انقلاب پر مستشرق مارگولیتھ بھی حیران و پریشان ہے۔اور اپنے اندرونی بغض و عناد کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکا۔وہ لکھتا ہے۔Some Moslems paid her the compliment of thinking she meant to play a Judith's part, but they did her more than justice۔Just as the Jewish tribes had each played for its own hand, careless of the fate of the others, so to this