اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 178 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 178

ازواج النبی 178 رض حضرت اُمّم ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ وہ معاف کر دے۔میری ایسی جتنی بھی کوتاہیاں تھی میں ان کی معافی مانگتی ہوں۔اور آپ کی طرف سے اگر ایسی کوئی زیادتی ہوئی ہو تو وہ میں آپ کو معاف کرتی ہوں۔حضرت عائشہ نے یہ سنا تو بے اختیار کہہ اٹھیں آپ نے تو مجھے خوش کر دیا اللہ تعالی بھی آپ کو خوش کرے۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کی تربیت تھی جو آنحضرت علی علی الکریم نے اپنی ازواج کی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ان کے پیش نظر ہوتا تھا۔پھر حضرت ام حبیبہ نے یہ معاملہ صرف حضرت عائشہ سے ہی نہیں کیا بلکہ پھر حضرت ام سلمہ کو بلوا بھیجا اور ان سے بھی یہی بات کی کہ آپس میں ہماری جو بھی غلط فہمیاں یا حق تلفی کی باتیں تھیں میں بھی معاف کرتی ہوں آپ بھی معاف کر دیں۔تاکہ اللہ تعالی کے پاس ہمارے معاملات صاف ہو کر پیش ہوں۔اور یوں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہونے سے قبل " کہاسنا معاف " کر کے ہلکی پھلکی ہو گئیں۔ย محبت و طاعت رسول 20 بدر سوم کے خلاف جہاد میں حضرت ام حبیبہ نے بہترین نمونہ قائم کر کے دکھایا۔عربوں میں اس سے پہلے جو فتیح رسمیں پائی جاتی تھیں ان میں سے ایک موت فوت پر بہت زیادہ بے صبری، جزع فنزع اور واویلا کا طریق تھا جو وفات یافتہ اور اس کے خاندان کی بڑائی کا معیار سمجھا جاتا تھا۔ام حبیبہ کے والد ابو سفیان تو مکہ کے بڑے سرداروں میں سے تھے۔اور ان کے خاندان کے غیر مسلم اقرباء سے ایسی بدر سوم کا خدشہ ہو سکتا تھا مگر جب ان کی وفات ہوئی تو حضرت ام حبیبہ نے تیسرے ہی دن خوشبو منگوائی اور اسے استعمال کر کے فرمانے لگیں کہ میری عمر گوایسی نہیں رہی کہ مجھے خوشبو لگانے یا اپنے چہرے کے لئے کچھ زیب وزینت کرنے کی ضرورت ہو۔لیکن میں نے اپنے آقا و مولا آنحضرت طی تم سے ایک بات سنی تھی اس کی پیروی میں ایسا کر رہی ہوں۔آپ نے ایک موقع پر منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔کسی مومن عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کا وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی" اپنے حقیقی والد کی وفات کے تیسرے دن ہی حضرت ام حبیبہ کا اپنا سوگ وغیرہ ختم کر کے تیار ہو کر خوشبو وغیرہ استعمال کرنا بتاتا ہے کہ حضرت ام حبیبہ کو اللہ اور اس کار سول دنیا کی ہر چیز حتی کہ ماں باپ سے بھی زیادہ پیارے تھے۔21 رض