اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 159 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 159

ازواج النبی 159 حضرت جویریہ رض کے کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا۔اس پر حارث اور اس کے دو بیٹوں اور اس کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔پھر وہ اونٹ منگوا کر آنحضرت میم کی خدمت میں بطور فدیہ پیش کر دیئے۔اور ان کی بیٹی ان کے حوالے کر دی گئی۔حضرت جویریہ نے بھی اسلام قبول کر لیا تو آنحضور نے ان کے والد کو شادی کا پیغام 12 13 بھجوایا۔انھوں نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے چار صد در ھم پر کر دیا۔خود حضرت جویریہ کی روایت کے مطابق آنحضور طی علی کریم سے نکاح کے وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔اس شادی میں منشاء الہی اور برکت آنحضرت ماتم کی قبیلہ بنی مصطلق کی اس شہزادی سے شادی کے تعلق میں منشاء الٹی کے واضح اشارے ملتے ہیں۔خود حضرت جویریہ بیان کرتی تھیں کہ آنحضرت علی اسکیم کے مریسیع میں آنے کے تین روز قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک چاند یثرب سے چلا اور میری گود میں آپڑا ہے۔میں نے کسی کو یہ خواب بتانی مناسب نہیں سمجھی ، جب رسول اللہ صلی علی تیم تشریف لائے اور جنگ کے بعد ہم قیدی بنالئے گئے تو مجھے اپنی رؤیا کی وجہ سے کچھ امید بندھتی تھی کہ اس کی کوئی بہتر تعبیر میرے حق میں ظاہر ہو گی۔پھر وہ حضور طی کنیم کی خدمت میں پیش ہوئیں۔وہ خود بیان فرماتی تھیں کہ جب میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ نے مجھے آزاد کر کے میرے ساتھ نکاح فرمایا۔اس نکاح کا پہلا غیر معمولی اثر اور برکت یہ ہوئی کہ مسلمانوں نے قبیلہ بنو مصطلق کے تمام قیدی آزاد کر دئے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی جویریہ سے رسول اللہ علیم نے شادی کر لی ہے تو انہوں نے کہا اب تو ہمارے آقا و مولا کا اس قبیلے کے ساتھ دامادی کا رشتہ ہو گیا ہے اور وہ رسول اللہ لی لی ایک نیم کے سسرال بن چکے ہیں۔اس لئے ان کے جتنے قیدی ہمارے پاس ہیں ہم ان کو بلا معاوضہ آزاد کرتے ہیں۔روایات میں ذکر ہے کہ کوئی ایک سو مسلمان گھرانوں نے بنی مصطلق کے قید کی اس دن آزاد کئے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ میں نے کسی بھی عورت کو اپنے قبیلے کے لئے ایسا برکت والا نہیں پایا جیسی حضرت جویریہ اپنے قبیلہ کے لئے ثابت ہوئیں کہ ان کے قبیلہ کے بیسیوں غلام اس بناء پر ایک دن میں آزاد 14