اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 126 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 126

ازواج النبی 126 حضرت ام سلمہ 28 آپ حضرت ام سلمہ سے کرتے تھے۔اور یوں عمر میں بڑی بیوی کا ایک احترام بھی باقی از واج کے مقابل پر آپ نے قائم کروایا۔اگرچہ حضرت سودہ حضرت ام سلمہ سے زیادہ عمر رسیدہ تھیں مگر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دے دی تھی۔شوق حصولِ علم 29 ام المؤمنین حضرت ام سلمہ پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔حصول علم کا بھی بے حد شوق رکھتی تھیں۔انہوں نے بہت سے دینی مسائل رسول اللہ ی ی ی یتیم سے دریافت کئے اور حضور کے بعد بھی لمبی عمر پا کر ایک زمانہ تک اس علم دین کو عام کیا۔اور گھریلو زندگی کے حوالے سے خصوصاً خواتین کی رہنمائی اور تربیت کا حق ادا کیا۔حضرت ام سلمہ فرماتی تھیں کہ میں نے آنحضرت میں کم سے غسل جنابت کے بارہ میں بھی تفصیل سے پوچھا اور عرض کیا کہ یار سول اللہ لی لی تم میں عموماً اپنے بال مینڈھی بنا کر باندھ لیا کرتی ہوں۔کیا مجھے سر کے بال کھول کر غسل کرنا چاہئے۔آنحضرت سلیم نے فرمایا کہ سر پر تین چلو پانی ڈال دینا کافی ہے۔اس سے 31 طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ انہوں نے حضور علی لیا کہ کم سے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی تم ! ابو سلمہ تو فوت ہو گئے میں ان کی اولاد کی پرورش کرتی ہوں یہ میرے بچے ہیں میں ان کو چھوڑ بھی نہیں سکتی۔کیا اس کا بھی اجر ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے اللہ تعالی ان کی پرورش کا تمہیں اجر عطا فرمائے گا۔ذہانت و فراست حضرت ام سلمہ نہایت زیرک خاتون تھیں۔اللہ تعالی نے انہیں غیر معمولی ذہانت سے نوازا تھا۔اس کا اظہار صلح حدیبیہ کے موقع پر خوب ہوا۔چنانچہ علماء نے آپ کی اس خوبی کو اپنی ذات میں غیر معمولی اور بہت بڑی فضیلت قرار دیا ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ آنحضرت می کنیم چھٹے سال ہجرت میں جب ایک رؤیا کی بناء پر طواف کعبہ کے لئے تشریف لے گئے تو مشرکین مکہ نے مخالفت کے باعث مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی اور حضور علیم اور آپ کے صحابہ کو حدیبیہ مقام پر رکنا پڑا۔بالآخر ان شرائط پر صلح ہوئی کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ اگلے سال آکر بیت اللہ کا طواف کر لیں۔صحابہ عمرہ کے لئے جو قربانیاں ساتھ لے کر گئے تھے ، آنحضرت لعلیم نے انہیں میدان حدیبیہ میں ہی اپنی قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔