اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 119
ازواج النبی 119 ام المؤمنین حضرت اُم سلمہ ย فضائل:۔حضرت ام سلمہ۔حضرت ام سلمہ کو رسول اللہ لی تعلیم کے ساتھ دیگر ازواج سے زیادہ غزوات میں شرکت کا شرف نصیب ہوا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ لی تعلیم نے جب صحابہ کو اسی میدان میں قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا اور وہ غم کے مارے سکتہ کے عالم میں تھے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ سے مشورہ کر کے اپنی قربانی ذبح کر دی جس کی برکت سے تمام صحابہ نے فوراً قربانیاں ذبح کر دیں۔حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ لی ایم کے ارشاد پر خواتین کو نماز میں پہلی دفعہ امامت کروائی۔نام و نسب حضرت ام سلمہ کا اصل نام ہند بنت ابی امیہ زیادہ معروف تھا۔اگرچہ بعض روایات میں رملہ بھی مذکور ہے۔آپ اپنے بیٹے سلمہ کی وجہ سے ام سلمہ کی کنیت سے مشہور تھیں۔ان کے والد کا نام سہیل اور بعض روایات کے مطابق حذیفہ بیان کیا جاتا ہے جن کی کنیت ابو امیہ تھی۔وہ اپنی سخاوت کی وجہ سے پورے عرب میں "زاد الراکب " کے لقب سے مشہور تھے یعنی مسافروں کو زادِراہ مہیا کرنے والے۔سہیل اپنے ہم سفروں کی مہمان نوازی اور میز بانی کا بہت خیال رکھتے تھے یہاں تک کہ انکے ہمراہیوں کو زادِ راہ ساتھ لانے کی ضرورت نہ ہوتی۔وہ خود ان سب کے لئے مہمان نوازی کے جملہ انتظام اس شوق سے کرتے کہ ان کا لقب ہی "زاد الراکب " پڑ گیا۔گویاوہ مسافروں کے لئے مجبتم زاد راہ ہیں۔حضرت ام سلمہ کے والد کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو مخزوم سے تھا۔والدہ عاتکہ بنت عامر بھی قریش کی شاخ میں سے تھیں۔بعض روایات میں ان کا نام عاتکہ بنت عبد المطلب مذکور ہے یہ دراصل آپ کی