اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 111 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 111

حضرت حفصہ 111 ازواج النبی دھیمی اور رقت آمیز ہے، جس کی وجہ سے وہ لوگوں تک اپنی آواز نہ پہنچا سکیں گے۔حضرت عمر بلند آواز والے ہیں امامت نماز کے لئے انہیں کہنا چاہئے۔آنحضرت نے دوبارہ فرمایا " ابو بکر ہی امامت کروائیں " اس میں یہ اشارہ اور پیغام بھی تھا کہ آنحضرت کے بعد امامت اور خلافت کا مقام حضرت ابو بکر کو عطا ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ جب دوبارہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ نے اپنی اس درخواست پر اصرار کیا تو حضور ملی تم نے انہیں فرمايا إِنَّكُنَّ لأَنتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُف کہ تم یوسف والی عورتوں کی طرح ہو۔چنانچہ امامت ابو بکر کے بارہ میں آنحضرت طلی سکیم کا فیصلہ قائم رہا۔وفات 40 ابن سعد اور ابن عبد البر کے مطابق حضرت حفصہ کی وفات سال 45ھ میں بعمر ساٹھ 60 سال حضرت امیر معاویہ کے دور حکومت میں ہوئی۔آپ کی وفات کے بارہ میں جو اختلاف رائے پایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ علامہ طبرانی اور علامہ ھیثمی کے مطابق آپ کی وفات افریقہ کے فتح ہونے کے سال ہوئی۔چونکہ فتح افریقہ کا پہلا واقعہ حضرت عثمان کے زمانہ میں 27ھ میں ہوا اس وجہ سے اس سال میں آپ کی وفات کا خیال محض ایک غلط فہمی ہے۔کیونکہ آپ کی عمر ساٹھ سال ہوئی جبکہ 27ھ میں وفات کی صورت میں عمر محض 42 سال بنتی ہے جو درست نہیں۔۔الغرض ام المومنین حضرت حفصہ حضور علی ایم کی وفات کے بعد بھی امت میں ایک لمبے عرصہ تک تربیت کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں اور بالآخر اپنے مولی کے حضور حاضر ہو گئیں۔آپ کا جنازہ مدینہ کے امیر مروان بن حکم نے پڑھایا، حضرت ابو ہریرہ نے میت قبر میں رکھی۔آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عاصم بن عمر قبر کے اندر اترے۔یوں ہماری ماں امت کی ماں ہم سے جدا ہو کر اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ایم کے قدموں میں حاضر ہو گئیں۔اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔42 اللَّهمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ *** ***