اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 109 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 109

ازواج النبی 109 حضرت حفصہ کروانے کے بعد وہ صحیفے حضرت حفصہ کو واپس بھجوا دیئے اور نقل شدہ مصاحف میں سے ایک ایک تمام علاقوں میں بھیج دیئے اور حکم دیا کہ اس کے سوا جو قرآنی صحیفہ ہے اسے جلادیا جائے۔حضرت حفصہ کی وفات کے معا بعد مروان بن الحکم امیر مدینہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ذریعہ حضرت حفصہ والے صحیفے منگوا کر از راو احتیاط ضائع کر دئے تاکہ لوگ مصحف عثمانی کے بارہ میں کسی شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔36 37 حضرت حفصہ نے وفات سے پہلے اپنے اموال کی وصیت اپنے حقیقی بھائی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے حق میں کی۔غابہ (مدینہ کے قریب ایک مقام ) کی کچھ زمین حضرت عمر آپ کی تحویل میں دے گئے تھے وہ باقی بچ رہی تھی اسے بھی آپ نے صدقہ کر دیا۔0 حضرت حفصہ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ غزوہ بدر میں آپ کے عزیزوں میں آنحضور ٹیم کے علاوہ چھ اصحاب رسول بھی شامل ہوئے جو آپ کے قریب ترین عزیز تھے۔ان اصحاب میں آپ کے والد حضرت عمرؓ ، آپ کے چچا حضرت زید، آپ کے تین ماموں حضرت عثمان، حضرت عبداللہ ، حضرت قدامه اور ایک ماموں زاد بھائی حضرت سائب شامل ہیں۔ایک اعتراض کا جواب 38 رض پادری و میری نے اس آیت پر بعض بے بنیاد اور کمزور تفسیری روایات کو بنیاد بنا کر اس جگہ سیل(Sale) کے حوالہ سے یہ اعتراض کیا ہے کہ دراصل محمد ہم نے اپنی لونڈی ماریہ کے ساتھ حضرت عائشہ یا حفصہ کی باری والے دن صحبت کی۔حضرت حفصہ نے اس کا بہت برا منایا تو انہیں منانے کیلئے آپ نے اس لونڈی کے پاس کبھی نہ جانے کا عہد کر لیا۔اور سورۃ تحریم آپ کو اس معاہدہ سے آزاد کرنے کیلئے اتار لی گئی۔پھر خود ہی پادری و ہیری نے اس سورت کے شان نزول کی وہ مشہور اور مستند دوسری روایت جو شہد کا شربت پینے کے بارہ میں ہے نقل کی ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے اور جس سے خود بخود پہلی روایت کار د ہو جاتا ہے۔39 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت ماریہ والی روایت کے راویوں میں سے کسی نے بھی یہ واقعہ خود حضرت حفصہ یا آنحضور نیم کی کسی اور زوجہ مطہرہ سے بیان نہیں کیا جو اس کی عینی شاہد تھیں۔