اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 100
ازواج النبی 100 حضرت حفصہ دوسری طرف یہ احساس غالب تھا کہ آنحضرت علی ی ی یتیم کے ساتھ ان کی دامادی کا تعلق نہیں رہا۔اسی دوران حضرت عمرؓ کی طرف سے حضرت حفصہ کے رشتہ کی تجویز ہوئی مگر حضرت عثمان نے معذرت کر لی۔بعد میں حضرت ام کلثوم بنت رسول اللہ لی تعلیم کے ساتھ حضرت عثمان کی شادی ہو گئی اور یوں رسول اللہ یتیم کی یہ بات پوری ہو گئی۔گھر یلوزندگی حضرت حفصہ بنت عمرہ کے مزاج میں اپنے والد کی جلالی طبیعت کا کچھ رنگ موجود تھا۔خود حضرت عمرؓ بھی انہیں نرم خوئی کی نصیحت کیا کرتے تھے جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔حضرت حفصہ کی یہ کیفیت حضرت عائشہ کے بیان کردہ ایک واقعہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ان دونوں ازواج میں سوت پن کے باوجود آپس میں دوستی بھی بہت تھی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اور حفصہ کو نفلی روزہ تھا۔ہم دونوں گھر میں تھیں کہیں سے کھانے کی کوئی چیز تحفہ میں آئی۔ہم نے باہم مشورہ کیا کہ نفلی روزہ کھول کر کھانا کھا لیتے ہیں، پھر روزہ کھول لینے کے بعد فکر بھی ہوئی کہ نفلی روزہ توڑنے کا کہیں گناہ نہ ہو۔جب حضور طی نیم گھر تشریف لائے تو حضرت حفصہ نے مجھے اپنے سے پہلے یہ سوال پوچھنے کی مہلت نہ دی۔فرماتی ہیں "وَكَانَتْ ابْنَةَ ابنها "آخر وہ کس باپ کی بیٹی تھیں۔کہنے لگیں یارسول اللہ ! کہیں سے کھانا آیا تھا ہم نے کھانا کھا کر نفلی روزہ کھول لیا۔اب آپ بتائیں ہم کیا کریں؟ حضور نے فرمایا " اب اس کے بدلے میں آپ دونوں کو نفلی روزہ رکھنا ہو گا۔اس واقعہ سے ازواج مطہرات کی نفلی عبادات کے شوق اور جذبہ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔حضرت حفصہ کی طبیعت اور مزاج کی مناسبت سے یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ علیم نے کچھ عرصہ کیلئے بعض مصالح کے تحت ایک ماہ کیلئے ازواج سے علیحدگی اختیار کی۔اس دوران مشہور ہو گیا کہ آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے، انہی دنوں کی بات ہے حضرت عمرؓ کی بیوی نے کسی معاملہ میں انہیں مشورہ دینا چاہا تو وہ سخت خفا ہوئے کہ مردوں کے معاملات میں عورتوں کی مداخلت کے کیا معنی ؟ تب ان کی بیوی کہنے لگیں کہ آپ کی اپنی بیٹی حفصہ تو رسول اللہ لی لی ایم کے آگے بولتی اور ان کو جواب دیتی ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ رسول کریم مالی یک تیم سارا سارا دن اس سے ناراض رہتے ہیں۔حضرت عمرؓ کو یہ بات سخت ناگوار ہوئی اور وہ فوراً اپنی بیٹی حفصہ کے گھر پہنچ گئے اور پوچھا کہ کیا تمہارے آگے سے بولنے کی وجہ سے